ملفوظات (جلد 2) — Page 507
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۵۰۷ جلد دوم کہ یہ محاورہ ہی اور ہے ورنہ اس سے تو تناقض لازم آتا ہے کہ ایک طرف کہے کہ زندہ نہیں ہوتا اور دوسری طرف کہہ دے کہ زندہ ہو جاتا ہے۔ اگر مسیح سچ مچ مردہ زندہ کرتا تھا تو قرآن شریف ضرور اس کی نسبت فرماتا يُخي المتوفی کیونکہ توفی کا لفظ وہاں آتا ہے جہاں قبض روح ہو۔ موت تو اس سے پہلے بھی آسکتی ہے۔ اور توفی کا لفظ اس لیے استعمال کیا ہے تا کہ یہ ثابت کیا جاوے کہ مرنے کے بعد روح باقی رہتی ہے جو اللہ تعالیٰ کے قبضہ میں آجاتی ہے کس قدر حیرت اور افسوس کی جگہ ہے کہ معجزات مسیح پر بحث کرتے ہوئے لوگ پوری توجہ نہیں کرتے ۔ قرآن کریم کو اگر غور سے پڑھ لیتے اور سنت اللہ پر نظر کرتے تو یہ مسئلہ سمجھ میں آجانا کچھ بھی مشکل نہ تھا۔ صحیح تاریخ ایک عمدہ معلم ہے انبیاء کے معجزات زمانہ کے مناسب حال ہوتے ہیں اس سے پیتا ہے کہ عربی کے سے معجزات اس رنگ کے ہوتے ہیں جس کا چرچا اور زور اُس کے وقت میں ہو۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے وقت سحر کا بہت بڑا زور تھا اس لیے ان کو جو معجزہ دیا گیا وہ ایسا تھا کہ اس نے اُن کے سحر کو باطل کر دیا اور ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں فصاحت بلاغت کا زور تھا اس لیے آپ کو قرآن کریم بھی ایک معجزہ اسی رنگ کاملا ۔ یہ رنگ اسی لئے اختیار کیا کہ شعراء جادو بیان سمجھے جاتے تھے اور ان کی زبان میں اتنا اثر تھا کہ وہ جو چاہتے تھے چند شعر پڑھ کر کر ا لیتے تھے جیسے آج کل جوش دلانے کے لئے انگریزوں نے باجا رکھا ہوا ہے ان کے پاس زبان تھی جو دلیری اور حوصلہ پیدا کر دیتی تھی ۔ ہر حربہ میں وہ شعر سے کام لیتے تھے اور فِي كُلِّ وَادٍ يَهِيمُونَ (الشعراء:۲۲۶) کے مصداق تھے۔ اس لیے اُس وقت ضروری تھا کہ خدا تعالیٰ اپنا کلام بھیجتا۔ پس خدا تعالیٰ نے اپنا کلام نازل فرمایا اور اسی کلام کے رنگ میں اپنا معجزہ پیش کر دیا۔ جبکہ اُن کو مخاطب کر کے کہہ دیا کہ اِن کُنتُم في رَيْبٍ مِّمَّا نَزَّلْنَا عَلَى عَبْدِنَا فَأْتُوا بِسُورَةٍ مِّنْ مِثْلِهِ الآية (البقرة : ۲۴) تم جو اپنی زبان دانی کا دم مارتے اور لاف زنی کرتے ہوا اگر کوئی قوت اور حوصلہ ہے تو اس کلام