ملفوظات (جلد 2) — Page 506
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۵۰۶ جلد دوم سختی نہیں کی جاتی اور ہر ایک سائل کو جواب دیا جاتا ہے۔ مسیح موعود کی بعثت کی غرض جب زمانہ نے اس قسم کی ترقی کی اور اشاعت حق کے سارے سامان اور ذریعے پیدا ہو گئے تو اللہ تعالیٰ نے اسلام کو گل اُمتوں پر غالب کرنے کے لیے مجھے مامور کر کے بھیجا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب دنیا میں بھیجا تھا حقیقی کی اموات صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت کی لڑی تھی کہنا ہے پھر بھی تھی ۔ محیا خشکی فساد سے چکی آپ نے آکر بہت سے بگڑے ہوؤں کو بنادیا۔ یہ بات سرسری نگاہ سے دیکھے جانے کے قابل نہیں ہے بلکہ اس میں بڑے بڑے حقائق ہیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت اور بزرگی کا پتہ لگتا ہے کیونکہ بجز اعلیٰ درجہ کے مقدس راست باز کے کوئی دوسرے کو درست نہیں کر سکتا جس کی اپنی قوت قدسی کمال کے درجہ پر نہ پہنچی ہوئی ہو اور ایسی قوت اس میں پیدا نہ ہو چکی ہو۔ جو ساری ناپاکیوں کے اثر کو زائل کر دے وہ دوسروں کو درست نہیں کر سکتا۔ یوں تو ہر ایک نبی نے اپنے اپنے وقت میں اپنی قوم کی اصلاح کی اور اس کو درست کیا مگر جس شان اور مرتبہ کی اصلاح ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کی ہے اس کو کسی اور کی اصلاح نہیں پہنچ سکتی۔ بلکہ اس کے مقابل میں دوسری اصلاحیں ہیچ نظر آتی ہیں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنی ٹیڑھی قوم کو پورے طور سے درست نہ کر سکے اور حضرت مسیح چند حواریوں کی سچی تبدیلی نہ کر سکے۔ اس لیے جب اس مقابلہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا جاوے تو صاف اقرار کرنا پڑتا ہے کہ ایک ہی ہے جس نے لاکھوں کروڑوں مردوں کو زندہ کیا۔ محی اگر ہے تو وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہے۔ جھوٹے ہیں وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ مسیح مردے زندہ کیا کرتا تھا۔ جس نے اپنے چند حواری بھی زندہ نہ کیے ان کے پاس ہمیشہ مردے ہی رہے۔ میں ہمیشہ حیران ہوا کرتا ہوں اور حقیقت میں یہ حیران ہونے کی بات ہے کہ وہ حیات کیسی ہے جس کے ساتھ فنا لگی ہوئی یہ مسئلہ ہی غلط ہے جو کہے کہ فلاں شخص زندہ کرتا ہے۔ اگر زندہ کرنے کا مفہوم اور مطلب اور نہ ہوتا تو خدا تعالیٰ کیوں فَيُسِلُ الَّتِي قَضَى عَلَيْهَا الْمَوْتَ ( الزمر : ۴۳) فرماتا۔ اس سے معلوم ہوا ہے۔ یہ