ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 508 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 508

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۵۰۸ جلد دوم کے معجزہ کے مقابلہ کچھ پیش کر کے دکھاؤ لیکن باوجود اس کے کہ وہ جانتے تھے کہ اگر کچھ نہ بنایا ( خصوصاً ایسی حالت میں کہ جب تحدی کر دی گئی ہے کہ تم ہرگز ہرگز بنانہ سکو گے ) تو ملزم ہو کر ذلیل ہو جائیں گے پھر بھی وہ کچھ پیش نہ کر سکے۔ اگر وہ کچھ بناتے اور پیش کرتے تو صحیح تاریخ ضرور شہادت دیتی مگر کوئی ثابت نہیں کر سکتا کہ کسی نے کچھ بنایا ہو۔ پس خدا تعالیٰ نے اُس وقت اُسی رنگ کا معجزہ دکھایا تھا۔ ایسا ہی یہودیوں میں سلب امراض کا سخہ چلا آتا تھا۔ ہندوؤں سلب امراض کا معجزہ میں بھی ہے۔ مسلمانوں میں بھی ہے۔ عیسائیوں میں بھی ہے بلکہ انگریزوں میں تو آج کل یہ علم بہت ترقی کر گیا ہے ۔ اس سے نبوت کا ثبوت نہیں ہوتا اور نہ نبوت سے اس کو کوئی تعلق ہے کیونکہ یہ صرف مشق پر موقوف ہے اور ہر شخص جو مشق کرے خواہ وہ ہندو ہو یا مسلمان، عیسائی ہو یا دہر یہ غرض کوئی بھی ہو وہ مشق کرنے سے اس میں مہارت پیدا کر سکتا ہے۔ اس لیے اس سلب امراض کو نبوت سے کوئی تعلق نہیں ہے بلکہ یہ ایک عام بات ہے تو حضرت مسیح کے وقت میں چونکہ اس کا زور تھا ۔ اللہ تعالیٰ نے اسی رنگ کا معجزہ حضرت مسیح کو دے دیا۔ یہ خاصیت ہر انسان میں موجود ہے کہ وہ توجہ کرتا ہے۔ توجہ کرنے کے ساتھ ایک چیز اُس کے دل سے اُٹھ کر پڑتی ہے۔ چنانچہ مسیح نے کہا کہ کس نے مجھے چھوا ہے کہ میری قوت نکلی ہے۔ سلب امراض والے بھی یہی کہتے ہیں۔ مختصر یہ کہ مسیح کے معجزات اس رنگ میں آکر بہت ہی کمزور اور ضعیف ہو جاتے ہیں ۔ اس کے علاوہ مسیح کے معجزات پر ایک اور بڑا اعتراض بھی ہے اور وہ یہ ہے کہ انجیل میں لکھا ہے کہ ایک تالاب ایسا تھا کہ لوگ اس کے پانی کے ملنے کا انتظار کیا کرتے تھے۔ لے اور وہ مانتے تھے کہ اس کو فرشتہ ہلاتا ہے۔ پس جو سب سے پہلے اس میں اُتر پڑتا وہ اچھا ہو جاتا تھا اور یہ بھی پایا جاتا ہے کہ مسیح اس تالاب پر اکثر جایا کرتے تھے۔ پھر کیا تعجب ہے کہ مسیح نے بیماروں کے علاج کا کوئی نسخہ اس تالاب کی مٹی وغیرہ سے ہی تیار کیا ہو۔ تالاب کے اس قصہ نے جو اناجیل میں درج ہے الحکم جلد ۶ نمبر ۱۵ مورخه ۲۴ را پریل ۱۹۰۲ صفحه ۵ تا۷