ملفوظات (جلد 2) — Page 503
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۵۰۳ جلد دوم لعنت کے یہ معنی متفق علیہ ہیں یا نہیں ؟ پھر اگر دل میں شرارت اور ہٹ دھرمی نہیں ہے اور محض خدا تعالیٰ کی رضا کے لیے ایک مذہب کو اختیار کیا جاتا ہے تو کیا ایک لعنت ہی کا مضمون عیسائی مذہب کے استیصال کے لیے کافی نہیں ہے؟ اول غور کرے کہ جب یہ بات مسلّم تھی اور پہلے توریت میں کہا گیا تھا کہ وہ جو کاٹھ پر لٹکایا گیا وہ لعنتی ہے اور وہ کا ذب ہے تو بتاؤ جو خود ملعون اور کا ذب ٹھہر گیا وہ دوسروں کی شفاعت کیا کرے گا ؟ او خویشتن گم است کرا رہبری کند میں سچ کہتا ہوں کہ جب سے ان عیسائیوں نے خدا کو چھوڑ کر اُلوہیت کا تاج ایک عاجز انسان کے سر پر رکھ دیا ہے اندھے ہو گئے ہیں اُن کو کچھ دکھائی نہیں دیتا ۔ ایک طرف اُسے خدا بناتے ہیں ۔ دوسری طرف صلیب پر چڑھا کر لعنتی ٹھہراتے ہیں اور پھر تین دن کے لیے ہاویہ میں بھی بھیجتے ہیں ۔ کیا وہ دوزخ میں دوزخیوں کو نصیحت کرنے گئے تھے یا اُن کے لیے وہاں جا کر کفارہ ہونا تھا؟ یہ حضرت نرت مریم کے یوسف سے نکاح پر اعتراضات مختصر یہ کہ اس قسم کے فساد موجود ہیں ۔ اب اصل مطلب یہ ہے کہ یہی نہیں بلکہ کوئی بھی اخلاقی حالت مسیح کی ثابت نہیں ہے۔ صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سہارے سے مانا گیا ہے۔ اگر انجیل کی بنا پر ہی ماننا پڑتا تو پھر ان مشکلات میں پڑ کر کون تسلیم کر سکتا ہے۔ عیسائیوں نے اور انجیل نے تو اور بھی داغ لگائے ہیں ۔ یہودی جس قسم کے الزام لگاتے ہیں ان کے تو بیان کرنے سے بھی شرم معلوم ہوتی ہے۔ یہ دلیر قوم تو اس کی ماں کو بھی متہم کرتی ہے۔ ایک اور خطرناک معاملہ ہے جس کا جواب عیسائیوں کے پاس ہرگز نہیں ہے اور وہ یہ ہے کہ مریم کی ماں نے عہد کیا تھا کہ وہ بیت المقدس کی خدمت کرے گی اور تار کہ رہے گی نکاح نہ کرے گی اور خود مریم نے بھی یہ عہد کیا تھا کہ میں ہیکل کی خدمت کروں گی ۔ باوجود اس عہد کے پھر وہ کیا بلا اور آفت پڑی کہ یہ عہد توڑا گیا اور نکاح کیا گیا ۔ اُن تاریخوں میں جو یہودی مصنفوں نے لکھی ہیں اور باتوں کو چھوڑ کر بھی اگر دیکھا جاوے تو یہ لکھا ہے کہ یوسف کو مجبور کیا گیا کہ وہ نکاح کرلے اور اسرائیلی بزرگوں نے