ملفوظات (جلد 2) — Page 504
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۵۰۴ جلد دوم اسے کہا کہ ہر طرح تمہیں نکاح کرنا ہوگا ۔ اب اس واقعہ کو مد نظر رکھ کر دیکھو کہ کس قدر اعتراض واقع ہوتے ہیں۔ اوّل ۔ جب عہد باندھا گیا تھا تو پھر خدا کی ماں اور نانی نے اپنے عہد کو کیوں توڑا؟ دوم ۔ جبکہ عیسائیوں کے نزدیک کثرت ازدواج زنا کاری ہے تو وہ اس کا کیا جواب دیتے ہیں کہ یوسف کی پہلی بیوی بھی تھی اور مریم دوسری بیوی تھی کیا وہ اپنے آپ یہ الزام اپنی مقدس کنواری پر قائم نہیں کرتے ؟ سوم ۔ جب کہ حمل ہو چکا تھا تو پھر حمل میں نکاح کیوں کیا گیا ؟ یہ تین زبر دست اعتراض ہیں جو اس پر ہوتے ہیں۔ اور باتوں کو اگر چھوڑ دیا جاوے مثلاً یہ کہ جب فرشتہ نے آکر مریم کو بشارت دی تھی کہ تیرے پیٹ میں خدا آتا ہے تو اُسے چاہیے تھا کہ شور مچا دیتی اور دنیا کو آگاہ کرتی کہ خدا کا استقبال کرنے کو تیار ہو جاؤ وہ میرے پیٹ سے پیدا ہوگا ۔ پھر اس کو چھپایا کیوں گیا۔ ہم اس قسم کے اعتراضوں کو سر دست چھوڑ دیتے ہیں لیکن جو تین بڑے اعتراض او پر کیے گئے ہیں اُن کا جواب عیسائیوں کے پاس حقیقت میں کچھ بھی نہیں ہے۔ اصل بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ مریم کو ہیکل میں پیٹ ہو گیا تھا اور مریم نے یہ سمجھا کہ لوگوں کو اگر بتایا گیا کہ مجھے فرشتہ نے آکر بیٹا پیدا ہونے کی بشارت دی ہے تو لوگ ٹھٹھا کریں گے اور کہیں گے کہ اس کو بیاہ کے خواب آتے ہیں ۔ کوئی بدکار ٹھہرائے گا لیکن جب پیٹ چھپ نہ سکا اور چر چاہونے لگا تو آخر سب کو فکر پڑی ۔ اگر پہلے سے بتادیتی جب فرشتہ نے آکر کہا تھا تو شاید اس قدر شور نہ ہوتا لیکن اُنہوں نے یہی سمجھا کہ اس وقت اگر بتا یا تو یہی کہیں گے کہ خاوند مانگتی ہے کیونکہ یہ قاعدہ ہے کہ اگر کنواری لڑکی ذرا سا بھی کوئی ذکر کر بیٹھے تو لوگ اس کی نسبت یہی نتیجہ نکال لیتے ہیں ۔ پس وہ ڈرتی رہی اور یہی اس نے سوچا کہ خاموش رہوں لیکن چار پانچ مہینے کے بعد جب پیٹ بڑھا اور پردہ نہ رہ سکا۔ تو پھر رہا نہ گیا تو ہیکل کے بزرگوں کو بخوبی معلوم ہو گیا کہ مریم حاملہ ہے اور انہیں فکر پیدا ہوئی اور جیسا کہ یہ دیکھا جاتا ہے کہ اگر شریف خاندان کی کوئی لڑکی حاملہ ہو جاوے تو جھٹ پٹ اس کا نکاح کر