ملفوظات (جلد 2) — Page 502
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۵۰۲ جلد دوم جھوٹا نبی صلیب پر لٹکایا جاتا ہے اور وہ ملعون ہوتا ہے۔ پس اُنہوں نے یہ خیال کیا کہ ایک طرف تو ایلیا آیا نہیں اور یہ مسیح ہونے کا مدعی ہے اور ایلیا کے قصے پر جو فیصلہ دیتا ہے وہ بظاہر ملا کی نبی کی کتاب کے مخالف ہے اس لیے کاذب کی مخالفت اور خود مسیح کے طرز عمل اور سلوک نے یہودیوں کو اور بھی برافروختہ کر دیا تھا جب وہ ان کو حرام کار اور سانپ اور سانپ کے بچے کہہ کر پکارتے تھے ۔ پس اُنہوں نے صلیب کے لیے کوشش کی اور جب صلیب پر چڑھا دیا تو ان کے پہلے خیال کو اور بھی مضبوطی ہوگئی۔ کیونکہ اُنہوں نے دیکھا کہ یہ صلیب پر لٹکایا جا کر لعنتی ہو گیا ہے اس لیے سچا نہیں ہے۔ اب انہوں نے یہ یقین کر لیا کہ جب یہ خود عنتی ہو گیا تو دوسروں کا شفیع کیسے ہو سکتا ہے۔ صلیب نے اس کے کاذب ہونے پر مہر لگا دی ۔ دو گواہوں کے ساتھ انسان پھانسی پاسکتا ہے۔ اُنہوں نے لے اس وقت بھی کہا کہ اگر تو سچا ہے تو اُتر آمگر وہ اُتر نہ سکا۔ اس امر نے اُن کو اور بدظن کر دیا۔ کے لعنت کا مفہوم عیسائی چونکہ لعنت کے مفہوم اور منشا سے ناواقف تھے اس لیے مسیح کو ملعون قرار دیتے وقت اُنہوں نے کچھ نہیں سوچا کہ اُس کا انجام آخر کیا ہو گا ؟ علاوہ بریں چونکہ عربی سے اُنہیں بغض تھا اس لیے عبرانی میں بھی پوری مہارت حاصل نہ کر سکے ۔ یہ دونوں زبانیں ایک ہی درخت کی شاخیں ہیں اور عربی جاننے والے کے لیے عبرانی کا پڑھنا سہل تر ہے مگر عیسائی بوجہ بغض عبرانی لغت سے بھی فائدہ نہ اٹھا سکے۔ لعنت کا مفہوم یہ ہے کہ کوئی خدا تعالیٰ سے سخت بیزار ہو جاوے اور خدا تعالیٰ اس سے بیزار ہو جاوے۔ عیسائیوں کے اپنے مطبع کی چھپی ہوئی لغت کی کتابیں جو بیروت سے آئی ہیں ان میں بھی لعنت کے یہی معنے لکھے ہوئے ہیں اور لعین شیطان کو کہتے ہیں ۔ مجھے ان لوگوں کی سمجھ پر سخت افسوس آتا ہے کہ اُنہوں نے اپنے مطلب کی خاطر ایک عظیم الشان نبی کی سخت بے حرمتی کی ہے اور اس کو بعین ٹھہرایا ہے اور انہوں نے اس پر کچھ بھی توجہ نہیں کی کہ لعنت کا تعلق دل سے ہوتا ہے۔ جب تک دل خدا سے برگشتہ نہ ہولے ملعون نہیں ہو سکتا۔ اب کسی عیسائی سے پوچھو کہ کیا عربی اور عبرانی لغت میں الحکم جلد ۶ نمبر ۱۳ مورخه ۱۰ را پریل ۱۹۰۲ صفحه ۳ تا ۵