ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 501 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 501

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۵۰۱ جلد دوم اپنی تعلیم کی خوبی اور تکمیل کے اور کیا بلحاظ اپنے کامل نمونہ اور دعاؤں کی قبولیت کے، غرض ہر طرح اور ہر پہلو میں چمکتے ہوئے شواہد اور آیات اپنے ساتھ رکھتے ہیں کہ جن کو دیکھ کر ایک غیبی سے غبی انسان بھی بشرطیکہ اُس کے دل میں بیجا ضد اور عداوت نہ ہو صاف طور پر مان لیتا ہے کہ آپ تَخَلَّقُوا بِأَخْلَاقِ الله کا کامل نمونہ اور کامل انسان ہیں لیکن جب جب کوئی مسیح کے حالات پر نظر کرتا ہے تو ایک دانش مند اور منصف مزاج انسان کو تامل ہوتا ہے کہ ایسے انسان کو جو مہذب اور شریفانہ باتوں کا جواب گالی سے دیتا ہے نیک اُستاد کہنے والوں کو سانپ اور سانپ کے بچے اور حرام کا رکہتا ہے خدا تو ایک طرف نبی ہی تسلیم کرے۔ مسیح پر ایمان لانے میں یہود کی مشکلات ان ساری باتوں کے علاوہ یہود کو ایک اور عجیب مشکل در پیش تھی جن میں بظاہر وہ حق پر ہو سکتے ہیں اور وہ یہ تھی کہ ملا کی نبی کی کتاب میں وہ پڑھ چکے تھے کہ مسیح کے آنے سے پہلے ایلیا کا آسمان سے اُتر ناضروری ہے ۔ جب تک وہ نہ آوے مسیح نہ آوے گا۔ اب اُن کے سامنے کسی کے دوبارہ آنے کی نظیر موجود نہیں اور ایلیا کا آسمان سے اُتر نا وہ اپنی کتابوں میں پڑھتے آئے تھے۔ اُنہوں نے ایلیا کو آتے دیکھا نہیں ۔ مسیح نے آنے کا دعوی کیا اُسے تسلیم کریں تو کیوں کر؟ مسیح نے جو فیصلہ ایلیا کے آنے کا کیا کہ وہ یوحنا کے رنگ میں آگیا۔ یہودیوں کے پاس بظاہر اس کے انکار کے لیے وجوہات تھیں کیونکہ اُن کو ایلیا کا وعدہ دیا گیا تھا نہ مشیل ایلیا کا۔ اور اس سے پہلے کوئی واقعہ اس قسم کا سے پہلے کوئی واقعہ اس قسم کا ہوا نہ تھا اس لیے اُن کو مسیح کا انکار کرنا پڑا۔ ایک یہودی کی کتاب میرے پاس موجود ہے۔ اُس نے بڑے زور سے اس امر پر بحث کی ہے اور پھر اپیل کرتا ہے کہ بتاؤ ایسی صورت میں ہم کیا کریں۔ بلکہ اُس نے یہاں تک لکھا ہے کہ اگر خدا تعالیٰ ہمیں اس کے متعلق باز پرس کرے گا تو ہم ملا کی نبی کی کتاب کھول کر اُس کے سامنے رکھ دیں گے۔ غرض ایک مشکل تو یہودیوں کو یہ پیش آئی پھر دوسری مشکل یہ پیش آئی کہ مسیح مصلوب ہو گیا اور صلیب کی لعنت نے ان کے کذب پر ایک اور رنگ چڑھا دیا ۔ کیونکہ وہ توریت میں پڑھ چکے تھے کہ