ملفوظات (جلد 2) — Page 475
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۴۷۵ جلد دوم اپنے آپ کو حواریوں کا جمعدار بنالیا۔ خود عیسائیوں کو اس کا اعتراف ہے کہ وہ بڑا سنگدل اور خراب آدمی تھا اور یونانی بھی پڑھا ہوا تھا۔ میں نے جہاں تک غور کی ہے مجھے یہی معلوم ہوا ہے کہ وہ ساری خرابی اس لڑکی ہی کے معاملہ کی تھی اور عیسائی مذہب کے ساتھ اپنی دشمنی کامل کرنے کے لیے اس نے یہ طریق آخری سوچا کہ اپنا اعتبار جمانے کے لیے ایک خواب سنادی اور عیسائی ہو گیا اور پھر یسوع کی تعلیم کو اپنے طرز پر ایک نئی تعلیم کے رنگ میں ڈھال دیا۔ میں کہتا ہوں کہ عیسائی مذہب کی خرابی اور اس کی بدعتوں کا اصل بانی یہی شخص ہے اور اس کے سوا میں کہتا ہوں کہ اگر شخص ایسا ہی عظیم الشان تھا اور واقعی یسوع کا رسول تھا اور اس قدر انقلاب عظیم کا موجب ہونے والا تھا کہ خطرناک مخالفت کے بعد پھر یسوع کا رسول ہونے کو تھا تو ہمیں دکھاؤ کہ اس کی بابت کہاں پیشگوئی کی گئی ہے کہ ان صفات والا ایک شخص ہوگا اور اُس کا نام ونشان دیا ہوا اور یہ بھی بتا یا ہو کہ وہ یسوع کی خدائی ثابت کرے گا ور نہ یہ کیا اندھیر ہے کہ پطرس کے لعنت کرنے اور یہودا اسکر یوطی کے گرفتار کرانے کی پیشگوئی تو يسوع صاحب کر دیں اور اتنے بڑے عیسوی مذہب کے مجتہد کا کچھ بھی ذکر نہ ہو؟ اس لیے اس شخص کی کوئی بات بھی قابلِ سند نہیں ہو سکتی ہے اور جو کچھ اس نے کہا ہے وہ کون سے دلائل ہیں۔ وہ بجائے خود نرے دعوے ہی دعوے ہیں۔ میں بار بار یہی کہتا ہوں اور اس لئے مکر رسہ کرر اس بات کو بیان کرتا ہوں کا ان کرتا ہوں کہ آپ سمجھ لیں کہ انجیل ہی کو یسوع کی خدائی کے رڈ کرنے کے لیے آپ پڑھیں ۔ وہ خود ہی کافی طور پر اس کی تردید کر رہی ہے۔ اگر وہ خدا تھا تو کیوں اس نے بالکل نرالی طرز کے معجزات نہ دکھائے۔ میں نے تحقیق کر لیا ہے کہ اُن کے معجزات کی حقیقت سلب امراض کے نہ لیا کہ کے نہ دیا سے کچھ بھی بڑھی ہوئی نہ تھی جس میں آج کل یورپ کے مسمریزم کرنے والے اور ہندو اور دوسرے لوگ بھی مشاق ہیں اور خیالات ایسے بیہودہ اور سطحی تھے کہ صرع کے مریض کو کہتا ہے کہ اس میں جن گھسا ہوا ہے حالانکہ اگر صرع کے مریض کو کونین، کچلہ ، فولاد دیں اور اندر دماغ میں رسولی نہ ہو تو وہ اچھا ہو جاتا ہے۔ بھلا جن کو مرگی سے کیا تعلق ۔ چونکہ یہودیوں کے خیالات ایسے ہو گئے تھے ان کی تقلید پر اس نے بھی ایسا ہی کہہ دیا اور یا یہ کہ جیسے آج کل جادو ٹونے کرنے والے کرتے ہیں کہ بعض یا یہ