ملفوظات (جلد 2) — Page 476
ملفوظات حضرت مسیح موعود ٤٧٦ جلد دوم ادویات کی سیاہی سے تعویذ لکھ کر علاج کرتے ہیں اور بیماری کو جن بتاتے ہیں۔ ویسے ہی اس نے کہہ دیا ہو۔ مجھے افسوس ہے کہ مسیح کے معجزات کو مسلمانوں نے بھی غور سے نہیں دیکھا اور عیسائیوں کی دیکھا دیکھی اور اُن سے سن سن کر ان کے معنے غلط کر لیے ہیں ۔ مثلاً آسمہ کا لفظ ہے جس کے معنے شب کور کے ہیں اور اب معنے یہ کر لیے جاتے ہیں کہ مادر زاد اندھوں کو شفا دیا کرتے تھے حالانکہ یہ آستہ وہ مرض ہے کہ جس کا علاج بکرے کی کلیجی کھانا بھی ہے اور اس سے بھی یا چھے ہو جاتے ہیں۔ یسوع ضعف، ناتوانی بیکسی اور نامرادی کی سچی تصویر ہے اور عام کمزوریوں یسوع کی عاجزی میں میں انسانوں کا شریک ہے۔ کوئی امر خاص اس میں پایا نہیں جاتا۔ کتب سابقہ کی پیشگوئیوں کا جو ذخیرہ پیش کیا جاتا ہے۔ ان میں صدہا اختلاف ہے۔ اوّل تو خود یہودیوں کی تفسیروں میں اُن کے وہ معنی ہی نہیں جو عیسائی کرتے ہیں اور دوسرے ان تفسیروں سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ وہ پوری ہو چکی ہوئی ہیں۔ ایک شخص عرصہ ہوا میرے پاس آیا تھا۔ آخر خدا نے اس پر اپنا فضل کیا اور وہ مسلمان ہو گیا اور مسلمان ہی مرا۔ اس کے واسطے یہودیوں کو لکھا تھا اور ان سے دریافت کیا تھا اور اصل وارث تو یہودی ہی ہیں کہ جو ہمیشہ نبیوں سے تعلیم پاتے چلے آئے تھے۔ انہی کا حق تو ہے کہ وہ اس کی صحیح تفسیر کریں اور خود مسیح نے بھی فقیہوں اور فریسیوں کی بات ماننے کا حکم دیا ہے گوان کے عمل سے منع کیا ہو۔ عیسائیوں اور یہودیوں میں اختلاف یہ ہے اول الذکر ان سے ابنیت اور الوہیت نکالتے ہیں اور آخر الذکر کہتے ہیں پوری ہو چکی ہیں۔ انصاف کی رو سے وہی حق پر ہیں جنہوں نے ہمیشہ نبیوں سے تعلیم پائی اور ان باتوں کی تجدید سے ایمان تازہ کیے اور برابر چودہ سو برس تک خدا کی باتیں سنتے آئے تھے۔ حضرت مسیح موسیٰ علیہ السلام سے چودہ سو سال بعد یعنی چودھویں صدی میں آئے تھے اور جیسے اس زمانہ میں مسیح دیا گیا تھا کہ تا موسوی جنگوں کے اعتراض کو اپنی تعلیم سے دُور کر دے اور خاتمہ جنگ و جدال پر نہ ہو۔ ویسے ہی اس اُمت کے لیے مثیل موسی صلی اللہ علیہ وسلم کے خلفاء میں سے چودھویں صدی پر مسیح موعود مبعوث کیا گیا تا اپنی پاک تعلیم کے ذریعہ جہاد کے غلط خیال کی اصلاح کر دے اور ثابت کر دے کہ اسلام تلوار سے ہرگز نہیں پھیلایا گیا بلکہ اسلام اپنے