ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 473 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 473

ملفوظات حضرت مسیح موعود چہ جائیکہ خدا یا خدا کا بیٹا ہے۔ ۴۷۳ جلد دوم تدبیر عالم اور جزا وسزا کے لیے عالم الغیب ہونا ضروری ہے اور یہ خدا کی عظیم الشان صفت ہے مگر میں ابھی دکھا آیا ہوں کہ اُسے قیامت تک کا علم نہیں اور اتنی بھی اسے خبر نہ تھی کہ بے موسم انجیر کے درخت کے پاس شدت بھوک سے بے قرار ہو کر پھل کھانے کو جاتا ہے اور درخت کو جسے بذات خود کوئی اختیار نہیں ہے کہ بغیر موسم کے بھی پھل دے سکے بد دعا دیتا ہے۔ اوّل تو خدا کو بھوک لگنا ہی تعجب خیز امر ہے اور یہ خوبی صرف انجیلی خدا ہی کو حاصل ہے کہ بھوک سے بے قرار ہوتا ہے پھر اس پر لطیفہ یہ بھی ہے کہ آپ کو اتنا علم بھی نہیں ہے کہ اس درخت کو پھل نہیں ہے اور پھر اگر یہ علم نہ تھاتا یہ علم نہ تھا تو کاش کوئی خدائی کرشمہ ہی وہاں دکھاتے اور بے بہارے پھل اس درخت کو لگا دیتے تا دنیا کے لیے ایک نشان ہو جاتا مگر اس کی بجائے بد دعا دیتے ہیں۔ اب ان ساری باتوں کے ہوتے یسوع کو خدا بنایا جاتا ہے۔ میں آپ کو سچی خیر خواہی سے کہتا ہوں کہ تکلف سے کچھ نہیں ہو سکتا۔ ایک شخص ایک ہی وقت میں اپنی دو حیثیتیں بتاتا ہے۔ باپ بھی اور بیٹا بھی ۔ خدا بھی اور انسان بھی ۔ کیا ایسا شخص دھوکا نہیں دیتا ہے؟ انجیل کے جن مقامات کا آپ ذکر کرتے ہیں وہاں سیاق سباق پر نظر کرنے سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ وہ اس کی خدائی کے ثابت کرنے کے لیے کافی نہیں ہیں کیونکہ وہ تو اس کی انسانیت ہی کو ثابت کرتے ہیں اور انسانیت کے لحاظ کے لحاظ سے بھی اسے عظیم الشان انسانوں کی فہرست میں داخل نہیں کرتے جب اسے نیک کہا گیا تو اس نے انکار کیا ۔ اگر اس کی روح میں بقول عیسائیاں کامل تطہیر اور پاکیزگی تھی پھر وہ یہ بات کیوں کہتا ہے کہ مجھے نیک نہ کہو۔ علاوہ بریں یسوع کی زندگی پر بہت سے اعتراض اور الزام لگائے گئے ہیں اور جس کا کوئی تسلی بخش جواب آج تک ہماری نظر سے نہیں گزرا۔ ایک یہودی نے یسوع کی سوانح عمری لکھی ہے اور وہ یہاں موجود ہے۔ اس نے لکھا ہے کہ یسوع ایک لڑکی پر عاشق ہو گیا تھا اور اپنے استاد کے سامنے اس کے حسن و جمال کا تذکرہ کر بیٹھا تو استاد نے اُسے عاق کر دیا اور انجیل کے مطالعہ سے جو کچھ مسیح کی حالت کا پتہ لگتا ہے وہ آپ سے بھی