ملفوظات (جلد 2) — Page 472
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۴۷۲ جلد دوم میں قادر مطلق عالم الغیب خدا ہوں اور لاؤ میں دکھا دوں اور پھر اپنی قدرتوں اور طاقتوں سے ان کو نشانات خدائی بھی دکھا دیتے اور وہ کام جو انہوں نے خدائی کے پہلے دکھائے تھے ان کی فہرست الگ دے دیتے۔ پھر ایسے بین ثبوت کے بعد کسی یہودی فقیہ یا فریسی کی طاقت تھی کہ انکار کرتا ۔ وہ تو ایسے خدا کو دیکھ کر سجدہ کرتے ۔ مگر بر خلاف اس کے آپ نے کیا تو یہ کیا کہ کہہ دیا کہ تمہیں خدا لکھا ہے۔ اب خدا ترس دل لے کر غور کرو کہ یہ اپنی خدائی کا ثبوت دیا یا ابطال کیا۔ غرض یہ باتیں ایسی ہیں کہ ان کے بیان کرنے سے بھی شرم آتی ہے ۔ میں اس کو آپ ہی کے انصاف پر چھوڑتا ہوں ۔ تو رات، اسلام، قانون قدرت، باطنی شریعت تو توحید کی شہادت دیتے ہیں اور عیسائی یسوع کی خدائی کے یہ دلائل دیتا ہے کہ کتب سابقہ میں اس کی بشارتیں ہیں ( جن کو یہودیوں نے کبھی تسلیم نہیں کیا کہ وہ خود خدا یا اس کے کسی بیٹے کے لیے ہیں بلکہ وہ مسیح کے آنے سے پہلے ہی پوری ہو چکی ہیں ) اور پھر انجیل کے بعض اقوال بتاتے ہیں کہ اس کا یہ حال ہے کہ اصل کا پتہ ہی نہیں کیونکہ اصل زبان مسیح کی عبرانی تھی اور خود مسیح اپنی الگ انجیل کا ذکر کرتے ہیں ۔ پھر مسیح نے کہیں اپنی خدائی کا دعوی نہیں کیا یہودیوں کے پتھراؤ کرنے پر اور اس کفر کے الزام پر ان کا قومی اور کتابی محاورہ پیش کر کے نجات پائی۔ اپنی خدائی کا کوئی قوی ثبوت نہ دیا اور اپنے سے کبھی فوق العادت کام کونہ دکھایا۔ معجزات کا وہ حال ، پیشگوئیوں کی وہ حالت علم کی یہ صورت کہ اتنا پتہ نہیں کہ انجیر کے درخت کو اس وقت پھل نہیں ہوگا، اختیار کا یہ حال کہ اسے لگا نہیں سکا۔ ساعت کا علم نہیں دے سکتا ، ضعف و ناتوانائی اتنی کہ طمانچہ اور کوڑے کھاتا ہوا صلیب پر چڑھتا ہے۔ یہودی کہتے ہیں کہ خدا کا بیٹا ہے تو اتر آ۔ اُتر ناتو در کنار ان کو کچھ جواب بھی نہیں بیٹاہے جا دے سکتا۔ چال چلن کا وہ حال کہ اُستاد بھی عاق کر دیتا ہے اور یہودیوں کے الزامات کئی پشت تک اوپر ہوتے ہیں اور کوئی جواب نہیں دیا جاتا۔ مسیح کے حالات از روئے بائبل اور پھر سے کے حالات کو پڑھ تو صاف معلوم ہوگا کہ یہ شخص کبھی بھی اس قابل نہیں ہو سکتا کہ نی الحکم جلد ۶ نمبر ۶ مورخه ۱۴ رفروری ۱۹۰۲ صفحه ۳ تا ۵ ہو۔