ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 471 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 471

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۴۷۱ جلد دوم نہیں ۔ آریہ اور بعض مسلمان بھی ان کے شریک تھے۔ پنڈت رام مھجرت پلیڈر جو آریہ ہے وہ بلا فیس آتا تھا اور اس نے مجھے خود کہا کہ وہ اس لیے شریک ہوا ہے کہ لیکھرام کے قاتل کا پتہ مل جاوے۔ محمد حسین گواہ ہو کر آیا اور کرسی مانگ کر بہت ذلیل ہوا۔ آخر جب ساری کارروائی ہو چکی اور عبدالحمید نے صاف اقرار کر لیا کہ مجھے قتل کے لیے بھیجا ہے۔ پوری مسل مرتب ہو جانے پر خدا نے اپنی قدرت کی چمکار دکھائی اور ڈگلس کے دل میں ڈال دیا کہ یہ سب جھوٹ ہے۔ اُس نے کپتان لیمار چنڈ کو کہا کہ میرا دل اطمینان نہیں پاتا پھر عبدالحمید سے دریافت کرو۔ آخر عبدالحمید نے اصل راز بتا دیا کہ مجھے سکھایا گیا تھا۔ پھر ڈ پٹی کمشنر کو تار دیا گیا اور نتیجہ وہی ہوا جس کی خبر مقدمہ کے نام و نشان سے بھی پہلے تمام شہروں میں شائع ہو چکی تھی ۔ ایسا ہی لیکھرام کا نشان اور صد ہا نشان ہیں ۔ جماعت کے لحاظ سے بھی اگر دیکھا جاوے تو مسیح ناکام اُٹھا۔ حواریوں نے سامنے قسمیں کھائیں اور لعنت کی۔ اور ادھر یہ حال ہے کہ ہمارے ایک مخلص دوست عبدالرحمان نام کو جو نواح کا و جو نواح کابل میں رہتا تھا محض ہماری وجہ سے ایک سال تک قید رکھا گیا کہ وہ تو بہ کرے مگر اُس نے موت کو انکار پر ترجیح دی۔ آخر کہتے ہیں کہ اُسے گلا گھونٹ کر مار دیا گیا اور جیسا اس نے کہا تھا مرنے کے بعد ایک نشان اس کا ظاہر ہوا۔ مجھے افسوس ہے کہ عیسائی اپنے ایمان کی متاع پولوس کی باتوں پر ہار دیتے ہیں ۔ علاوہ بر آن انجیل کا ایک بہت بڑا حصہ بھی یہی تعلیم دیتا ہے کہ خدا ایک ہے مثلاً جب مسیح کو یہودیوں نے اس کے اس کفر کے بدلے میں یہ کہ ابن اللہ ہونے کا دعویٰ کرتا ہے پتھراؤ کرنا چاہا تو اس نے انہیں صاف کہا کہ کیا تمہاری شریعت میں یہ نہیں لکھا کہ تم خدا ہو ۔ اب ایک دانش مند خوب سوچ سکتا ہے کہ یہ اس الزام کے وقت تو چاہیے تھا مسیح اپنی پوری بریت کرتے اور اپنی خدائی کے نشان دکھا کر انہیں ملزم کرتے اور اس حالت میں کہ ان پر کفر کا الزام لگایا گیا تھا تو ان کا فرض ہونا چاہیے تھا کہ اگر وہ فی الحقیقت خدا یا خدا کے بیٹے ہی تھے تو یہ جواب دیتے کہ یہ کفر نہیں ہے بلکہ میں واقعی طور پر خدا کا بیٹا ہوں اور میرے پاس اس کے ثبوت کے لیے تمہاری ہی کتابوں میں فلاں فلاں موقع پر صاف لکھا ہے کہ