ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 470 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 470

ملفوظات حضرت مسیح موعود ٤٧٠ جلد دوم پادریوں نے خیالی اور فرضی طور پر مسیح کی خدائی کے ثبوت کے لیے بڑے ہاتھ پاؤں مارے ہیں مگر آج تک ایک بھی رسالہ یا تحریر ان کی میری نظر سے نہیں گزری اور کوئی پادری میں نے نہیں دیکھا جس نے مسیح کے معجزات کے چہرہ سے تالاب کے قصہ کے داغ کو دور کیا ہو اور جب تک انجیل میں یہ قصہ درج ہے یہ داغ اٹھ نہیں سکتا ۔ میں بار بار آپ کو اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کی صفات کو دیکھو ۔ رہا پولوس جس کی باتوں سے خدائی نکالی جاتی ہے۔ وہ اپنے چال چلن کے لحاظ سے بجائے خود غیر معتبر اور اس کے لیے مسیح کی کوئی پیشگوئی نہیں۔ پھر آپ ہی بتائیں کہ ایک دانش مندا سے خدا کس طرح مان کے ایسے خدا کی کوئی پرستش کر سکتا ہے؟ ہرگز نہیں ۔ مسیح کی زندگی اس کی پوری ناکامی اور نامرادی کی تصویر ہے۔ آج وہ زندہ ہوتے تو ان کو وہ نشانات دیکھ کر جو اس مسیح کے ہاتھ پر صادر ہو رہے ہیں شرمندہ ہونا پڑتا۔ کیا یہی قبولیت دعا ہوتی ہے کہ ساری رات چلاتا رہا اور کسی نے بھی نہ سنا اور آخری ساعت میں خدا کا شکوہ کرتا ہوا رخصت ہوا کہ ایلِی ايْلِ لِمَا سَبَقْتَنِی۔ خدا نے مجھے مامور کر کے بھیجا اور تائیدی نشانات دکھائے اس وقت جو خدا نے مجھے مامور کر کے بھیجا ہے اور جو نشانات میری تائید میں ظاہر ہوئے ہیں ان کی نظیر تو پیش کرو مثلاً یہی ڈگلس کا مقدمہ جو دین دار پادریوں کی کوشش اور ایک گال پر طمانچہ کھا کر دوسری پھیر دینے کی تعلیم دینے والوں کی طرف سے کیا گیا۔ کئی سو آدمی اس بات کے گواہ موجود ہیں کہ کس طرح پر قبل از وقت کل واقعات سے اطلاع دی گئی اور خدا نے کس طرح ہر قسم کی ذلت سے محفوظ رکھ لیا۔ پہلے امرتسر میں جب یہ مقدمہ دائر کیا گیا تو ڈپٹی کمشنر نے چالیس ہزار کی ضمانت کے ساتھ وارنٹ جاری کر دیا مگر خدا کی قدرت دیکھو کہ وہ اسے جاری نہ کر سکا وہ اسی کی کتاب میں رہ گیا۔ پیچھے جب اسے یہ معلوم کرایا گیا کہ ایسے وارنٹ کا اجرا نا جائز ہے تو اس نے گورداسپور تار دی کہ وارنٹ روکا جاوے مگر وہاں پہنچا ہی نہ تھا۔ آخر یہ مقدمہ چلا اور عیسائیوں نے ہر طرح سے میرے سزا دلانے میں سعی کی۔ مگر خدا نے اپنی قدرت کا نشان دکھایا اور میری اہانت چاہنے والوں کی اہانت کی۔ ڈگلس صاحب نے نہایت ہی عزت و احترام سے مجھے بلایا اور کرسی دی حالانکہ مجھے ان باتوں کی ایک ذرہ بھر بھی پروا