ملفوظات (جلد 2) — Page 469
ملفوظات حضرت مسیح موعود ٤٦٩ جلد دوم رونق کو دور کر دیتا ہے اور مقابلہ جب ہم انبیاء سابقین کے معجزات کو دیکھتے ہیں تو وہ کسی حالت میں مسیح کے معجزات سے کم نہیں بلکہ بڑھ کر ہیں کیونکہ بائبل کے مطالعہ کرنے والے خوب جانتے ہیں کہ بلکہ پہلے نبیوں سے مردوں کا زندہ ہونا ثابت ہے بلکہ بعض کی ہڈیوں سے مردوں کا لگ کر بھی زندہ ہونا ثابت ہے حالانکہ مسیح کے خیالی معجزات میں ان باتوں کا کوئی اثر نہیں ہے۔ مسیح کی لاش نے کوئی مردہ زندہ نہیں کیا پھر بتاؤ کہ مسیح کو کون سی چیز خدا بنا سکتی ہے؟ کیا پیشگوئیاں؟ ان کی حقیقت میں نے پہلے بتادی ہے کہ مسیح کی پیشگوئیاں پیشگوئی کا رنگ ہی نہیں رکھتی ہیں جو باتیں پیشگوئی کے رنگ میں مندرج ہیں وہ ایسی ہیں کہ ایک معمولی آدمی بھی اُن سے بہتر باتیں کہہ سکتا ہے اور قیافہ شناس مدبّر کی پیشگوئیاں اُن سے بدرجہا بڑھی ہوئی ہوتی ہیں۔ میں علی الاعلان کہتا ہوں کہ اگر اس وقت مسیح ہوتے تو جس قدر عظیم الشان تائیدی نشان پیشگوئیوں کے رنگ میں اب خدا نے میرے ہاتھ پر صادر کئے ہیں وہ ان کو دیکھ کر شرمندہ ہو جاتے اور اپنی پیشگوئیوں کا کہ زلزلے آئیں گے، مری اور قحط پڑیں گے یا مرغ با نگ دے گا کبھی مارے ندامت کے نام نہ لیتے ۔ پھر آپ ہی ہمیں بتائیں کہ کس طرح پر ہم مسیح کو مانیں کہ وہ خدا تھا ۔ خدائی کا دعوئی ان میں نہیں ۔ صحف سابقہ کی پیشگوئیوں کے اپنے متعلق ہونے کا انہوں نے کوئی دعویٰ نہیں کیا اور نہ اپنے متعلق ہونے کا کوئی ثبوت دیا۔ پھر سلب صفات خدائی کو ہم ان میں دیکھتے ہیں۔ قیامت کی بابت انہیں اقرار ہے کہ مجھے ، اس اس کا کا علم نہیں ، باپ اور بیٹے کے باوجود متحد فی الوجود ہونے کے ایک کا عالم دوسرے کا جاہل ہونا قابل لحاظ ہے۔ تقدس کا یہ حال کہ خود کہتا ہے کہ مجھے نیک نہ کہو۔ صرف باپ ہی کو نیک ٹھہراتا ہے۔ پھر یہ اختلاف بھی باپ بیٹے کی عینیت کے خلاف ہے۔ صرف ابن کا لفظ ان کی خدائی کو ثابت نہیں کر سکتا کیونکہ حقیقت اور مجاز میں باہم تفریق کرنے کے ہم مجاز نہیں ہو سکتے کہ کہہ دیں کہ یہاں تو حقیقت مراد ہے اور فلاں جگہ مجاز ہے۔ یہی لفظ یا اس سے بھی بڑھ کر جب دوسرے انبیاء اور راست بازوں اور قاضیوں پر بولا جاوے تو وہ نرے آدمی ہیں اور مسیح پر بولا جاوے تو وہ خود خدا اور ابن بن جاویں۔ یہ تو انصاف اور راستی کے خلاف ہے اور پھر گویانی شریعت اور نئی کتاب بنانا ہے۔ اس سے کوئی فائدہ نہیں ۔