ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 468 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 468

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۴۶۸ جلد دوم فرزند من بلکه نخست زاده من است ۔ اب اس سے بڑھ کر اور کیا ہوگا ۔ اور خدا کی بیٹیاں بھی بائبل سے تو ثابت ہوتی ہیں اور سب سے بڑھ کر یہ کہ خدا کا اطلاق بھی ہوا ہے کہ تم خدا ہو۔ اس سے زیادہ اور کیا ثبوت ہوگا ۔ اب ہر ایک منصف مزاج دانش مند غور کر سکتا ہے کہ اگر ابن کا لفظ عام نہ ہوتا تو تعجب کا مقام ہوتا لیکن جبکہ یہ لفظ عام ہے اور آدم کو بھی شجرہ ابناء میں داخل کیا گیا ہے اور اسرائیل کو نخست زادہ بتایا گیا ہے اور کثرت استعمال نے ظاہر کر دیا ہے کہ مقدسوں اور راستبازوں پر یہ لا یہ لفظ حسن ظن کی بنا پر بولا جاتا ہے۔ اب جب تک مسیح پر اس لفظ کے اطلاق کی خصوصیت نہ بتائی جاوے کہ کیوں اس امنیت میں وہ سارے راست بازوں کے ساتھ شامل نہ کیا جاوے اس وقت تک یہ لفظ کچھ بھی مفید اور مؤثر نہیں ہو سکتا کیونکہ جب یہ لفظ عام اور قومی محاورہ ہے تو مسیح پر اُن سے کوئی نرالے معنے پیدا نہیں کر سکتا۔ میں اس لفظ کو مسیح کی خدائی یا امنیت یا الوہیت کی دلیل مان لیتا اگر یہ کسی اور کے حق میں نہ آیا ہوتا ۔ میں سچ سچ کہتا ہوں اور خدا تعالیٰ کے خوف سے کہتا ہوں کہ ایک پاک دل رکھنے والے اور سچے کانشنس والے کے لیے اس بات کی ذرا بھی پروانہیں ہوسکتی اور ان الفاظ کی کچھ بھی وقعت نہیں ہو سکتی جب تک یہ ثابت کر کے نہ دکھایا جاوے کہ کسی اور شخص پر یہ لفظ کبھی نہیں آئے اور یا آئے تو ہیں مگر مسیح ان و مجوہات قویہ کی بنا پر اوروں سے ممتاز اور خصوصیت رکھتا ہے۔ یہ تو دو رنگی ہے کہ مسیح کے لیے یہی لفظ آئے تو وہ خدا بنا یا جاوے اور دوسروں پر اس کا اطلاق ہو تو وہ بندے کے بندے؟ اگر یہ اعتقاد کیا جاوے کہ خدا خود ہی آکر دنیا کو نجات دیا کرتا ہے یا اس کے بیٹے ہی آتے ہیں تو پھر دور لازم آئے گا اور ہر زمانہ میں نیا خدا یا اس کے بیٹوں کا آنا ماننا پڑے گا جو صریح خلاف بات ہے۔ ان ساری باتوں کے علاوہ ایک اور بات قابلِ غور ہے کہ وہ کیا نشانات تھے جن سے حقیقتاً مسیح کی خدائی ثابت ہوتی ۔ کیا معجزات؟ اول تو سرے سے ان معجزات کا کوئی ثبوت ہی نہیں کیونکہ انجیل نویسوں کی نبوت ہی کا کوئی ثبوت نہیں۔ اگر ہم اس سوال کو درمیان نہ بھی لائیں اور اس بات کا لحاظ نہ کریں کہ اُنہوں نے ایک محقق اور چشم دید حالات لکھنے والے کی حیثیت سے نہیں لکھے۔ تب بھی ان معجزات میں کوئی رونق اور قوت نہیں پائی جاتی جبکہ ایک تالاب ہی کا قصہ مسیح کے سارے معجزات کی