ملفوظات (جلد 2) — Page 458
ملفوظات حضرت مسیح موعود لد ٧٥ جلد دوم خدا سے ڈر کر بتائیں کہ یہ خدا کے اس فعل کی ہتک نہیں ہے کہ اس نے مختلف قوتیں اور استعداد میں انسان کی روح میں رکھ دی ہیں ۔ اگر کوئی عیسائی یہ کہے کہ صرف نرمی اور حلم ہی کی قوت سے ساری قوتوں کا نشو و نما ہوسکتا ہے تو اس کی دانش مندی میں کوئی شک کرے گا بحالیکہ خود خدا کی صفات بھی مختلف ہیں اور ان سے مختلف افعال کا صدور ہوتا ہے اور خود کوئی عیسائی پادری ہم نے ایسا نہیں دیکھا کہ مثلاً سردی کے ایام میں بھی گرمی ہی کے لباس سے کام لے اور دیسی غذاؤں پر گزارہ کرے یا ساری عمر ماں ہی کا دودھ پیا ر ہے یا بچپن ہی کے چھوٹے چھوٹے گرتے پاجامے پہنا کرے غرض اس قسم کی تعلیم پیش کرتے ہوئے شرم آ جاتی ہے اگر ایمان اور خدا کا خوف ہو۔ اگر نرمی اور حلم ہی کافی تھا تو پھر کیا یہ مصیبت پڑی کہ انجیل کے ماننے یہ والوں کو دیوانی ، فوجداری جرائم کی سزاؤں کے لئے قانون بنانے پڑے اور سیاست اور ملک داری کے آئین کی ضرورت ہوئی ایک گال پر طمانچہ کھا کر دوسری طرف پھیرنے والوں کو فوجوں اور پولیس کی کیا ضرورت !! خدا کے لئے کوئی غور کرے ۔ پس اس اصول نے تمام حقوق العباد پر پانی پھیر دیا ہے جب کہ ساری قوتوں ہی کا خون کر دیا۔ اسلام کل انسانی قوئی کا متکفل ہے ۔ اب اس کے مقابل میں دیکھو کہ اسلام نے کیسی کا ہے تعلیم دی اور کس طرح پر ساری قوتوں اور طاقتوں ا ہے تعلیم دی اور کس طرح پر ساری قوتوں اور طاقتوں کا تکفل فرمایا۔ اسلام نے سب سے اول یہ بتایا ہے کہ کوئی قوت اور طاقت جو انسان کو دی گئی ہے فی نفسہ وہ بڑی نہیں ہے بلکہ اس کی افراط یا تفریط اور بڑا استعمال اسے اخلاق زمیمہ کی ذیل میں داخل کرتا ہے اور اس کا برمحل اور اعتدال پر استعمال ہی اخلاق ہے۔ یہی وہ اصول ہے جو دوسری قوموں نے نہیں سمجھا اور قرآن نے جس کو بیان کیا ہے اب اس اصول کو مد نظر رکھ کر وہ کہتا ہے جَزُوا سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ مِثْلُهَا فَمَنْ عَفَا وَ أَصْلَحَ الآية (الشوری: ۴۱) یعنی بدی کی سزا تو اسی قدر بدی ہے لیکن جس نے عفو کیا اور اس عفو میں اصلاح بھی ہو۔ عفو کو تو ضرور رکھا ہے مگر یہ نہیں کہ اس عفو سے شریرا اپنی شرارت میں بڑھے یا تمدن اور سیاست کے اصولوں اور انتظام میں کوئی خلل واقع ہو بلکہ ایسے موقع پر سزا