ملفوظات (جلد 2) — Page 457
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۴۵۷ جلد دوم غرض حقوق العباد کو پورے طور پر ادا کرنے اور بجالانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے انسان کو مختلف قوتوں کا مالک بنا کر بھیجا تھا اور اس سے منشا یہی تھا کہ اپنے محل پر ہم ان قوتوں سے کام لے کر نوع انسان کو فائدہ پہنچائیں مگر انجیل کا ساراز در حلم اور نرمی ہی کی قوت پر ہے حالانکہ یہ قوت بعض موقعوں پر زہر قاتل کی تاثیر رکھتی ہے۔ ترکیب تمدنی زندگی کی ترکیب اس لئے ہماری یہ مدنی زندگی جو تلف طبائع کے اختلاط اور تر سے بنی ہے اپنی ترکیب اور صورت ہی میں بالطبع یہ تقاضا کرتی ہے کہ ہم اپنے تمام قومی کو محل اور موقع پر استعمال کریں لیکن انجیل محل اور موقع شناسی کو تو پس پشت ڈالتی ہے اور اندھا دھند ایک ہی امر کی تعلیم دیتی ہے کیا ایک گال پر طمانچہ کھا کر دوسری پھیر دینا عملی صورت میں بھی آسکتا ہے اور کر تہ مانگنے والے کو چغہ دینے والے آپ نے بھی دیکھے ہیں اور کیا کوئی آدمی جو انجیل کی اس تعلیم کا عاشق زار ہو کبھی گوارا کر سکتا ہے کہ کوئی شریر اور نا بکار انسان اس کی بیوی پر حملہ کرے تو وہ لڑکی بھی پیش کر دے؟ ہر گز نہیں۔ جس طرح پر ہم کو اپنے جسم کی صحت اور صلاحیت کے لئے ضرور ہے کہ مختلف قسم کی غذا ئیں موسم اور فصل کے لحاظ سے کھائیں اور مختلف قسم کے لباس پہنیں ویسی ہی روح کی صلاحیت اور اس کی قوتوں اور خواص کے نشو نما کے واسطے لازم ہے کہ اسی قاعدہ کو مدنظر رکھیں ۔ جسمانی تمدن میں جس طرح پر گرم سرد، نرم سخت ، حرکت و سکون کی رعایت رکھنی ضروری ہے اسی طرح پر روحانی صحت کے لئے مختلف قوتوں کا عطا ہونا ہی صاف دلیل اس امر کی ہے کہ روح کی بھلائی کے لئے ان سے کام لینا ضروری ہے اور اگر ان مختلف قوتوں سے ہم کام نہیں لیتے یا نہ لینے کی تعلیم دیتے ہیں تو ایک خدا ترس اور غیور انسان کی نگاہ میں ایسا معلم خدا کی توہین کرنے والا ٹھہرے گا کیونکہ وہ اپنے اس طریق سے یہ ثابت کرتا ہے کہ خدا نے یہ قوتیں لغو پیدا کی ہیں۔ انجیل ایک ہی قوت پر زور دیتی ہے ہیں اگر فیل ایک ہی قوت پر زور دیتی ہے اور انجیل دیتی ہے تو میں آپ سے ہی انصافاً پوچھتا ہوں کہ