ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 459 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 459

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۴۵۹ جلد دوم ضروری ہے۔ عفواصلاح ہی کی حالت میں روا رکھا گیا ہے۔ اب بتاؤ کہ کیا یہ تعلیم انسانی اخلاق کی متمم اور مکمل ہو سکتی ہے یا زرے طمانچے کھانے۔ قانون قدرت بھی پکار کر اس کی تائید کرتا ہےاور عملی طور پر بھی اس کی ہی تائید ہوتی ہے۔ انجیل پر عمل کرنا ہے تو پھر آج ساری عدالتیں بند کر دو اور دو دن کے لئے پولیس اور پہرہ اٹھا دو تو دیکھو کہ انجیل کے ماننے سے کس قدر خون کے دریا بہتے ہیں اور انجیل کی تعلیم اگر ناقص اور ادھوری نہ ہوتی تو سلاطین کو جدید قوانین کیوں بنانے پڑتے۔ غرض یہ حقوق العباد پر انجیل کی تعلیم کا اثر ہے۔ آریوں کے عقائد اب میں یہ بھی بتا دینا چاہتا ہوں کہ دیانند نے جو دید کا خلاصہ ان دونوں اصولوں کے رو سے پیش کیا ہے وہ کیا ہے؟ حق اللہ کے متعلق تو اُس نے یہ ظلم کیا ہے کہ مان لیا ہے کہ خدا کسی چیز کا بھی خالق نہیں ہے بلکہ یہ ذرات اور ارواح خود بخود ہی اس کی طرح ہے وہ صرف اُن کا جوڑ نے جاڑنے والا ہے جس کو عربی زبان میں مؤلّف کہتے ہیں۔ اب اس سے بڑھ کر حق اللہ کا اتلاف اور کیا ہوگا کہ اس کی ساری صفات ہی کو اُڑا دیا اور عظیم الشان صفت خالقیت کا زور سے انکار کیا گیا ۔ جبکہ وہ جوڑ نے جاڑنے والا ہی ہے تو پھر سمجھ میں نہیں آتا کہ اگر یہ تسلیم کر لیا جاوے کہ وہ ایک وقت مر بھی جاوے گا تو اس سے مخلوق پر کیسا اثر پڑ سکتا ہے۔ کیونکہ جب اس نے اُسے پیدا ہی نہیں کیا تو وہ اپنے وجود کے بقا اور قیام میں قائم بالذات ہیں اُس کی ضرورت ہی کیا ہے؟ جوڑ نے جاڑ نے سے اس کا کوئی حق اور قدرت ثابت نہیں ہوتی جبکہ اجسام اور روحوں میں مختلف قوتیں اتصال اور انفصال کی بھی موجود ہیں ۔ روح میں بڑی بڑی قوتیں ہیں جیسے کشف کی قوت ۔ انسانی روح جیسی یہ قوت دکھا سکتا ہے اور کسی کا روح نہیں دکھا سکتا مثلاً گائے یا بیل کا۔ اور افسوس ہے کہ آریہ ان ارواح کو بھی مع اُن کی قوتوں اور خواص کے خدا کی مخلوق نہیں سمجھتا۔ اب سوال یہ ہوتا ہے کہ جب یہ اشیاء اجسام اور ارواح خود بخود قائم بالذات ہیں اور ان میں اتصال اور انفصال کی قوتیں بھی موجود ہیں تو وجود باری پر ان کے وجود سے کیا دلیل لی جاسکتی ہے۔ کیونکہ جب میں یہ کہتا ہوں کہ یہ لوٹا ایک قدم چل سکتا ہے دوسرے قدم پر اس کے نہ چلنے کی کیا وجہ؟