ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 449 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 449

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۴۴۹ جلد دوم تھا تو وہ مجھے تین میل تک چھوڑنے آئے تھے۔ (ایڈیٹر ۔ سلیم الفطرت لوگ حضرت مسیح موعود کی شفقت اور ہمدردی پر غور کریں اور اس جوش کا اندازہ کریں جو اس کی فطرت میں کسی روح کو بچا لینے کے لئے ہے کیا تین میل تک جانا محض ہمدردی ہی کے لئے نہ تھا اور نہ میاں سراج الدین سے کیا غرض تھی اگر فطرت سلیم ہو تو آپ کی اس جوش ہمدردی ہی سے حق کا پتہ پالے ہمارے لئے ایسا سچا جوش رکھنے والے تجھ پر خدا کا سلام سلامت بر تو اے مرد سلامت ) اور پسینہ آیا ہوا تھا۔ حضرت مسیح موعود ۔ اس پسینہ سے اس نے یہ مراد لی کہ گویا جواب نہیں آیا افسوس ! آپ اس سے پوچھتے تو سہی کہ پھر وہ یہاں رہ کر نمازیں کیوں پڑھتا تھا اور کیا اس نے نہیں کہا تھا کہ میری تسلی ہو گئی میرے سامنے ہو تو میں اس کو حلف دے کر پوچھوں ۔ سامنے ہونے سے کچھ تو شرم آجاتی ہے۔ منشی عبد الحق صاحب۔ میں نے نمازوں کا حال پوچھا تھا تو انہوں نے کہا تھا کہ ہاں میں پڑھا کرتا تھا اور آخر میں نے کہہ دیا تھا کہ میں کسی سرد مقام پر جا کر فیصلہ کروں گا اور یہ بھی مسٹر سراج الدین نے کہا تھا کہ مرزا صاحب شہرت پسند ہیں۔ میں نے چار سوال پوچھے تھے ان کا جواب چھاپ دیا۔ حضرت اقدس ۔ اس میں تو شہرت پسندی کی کوئی بات نہیں ہم کیوں حق کو چھپاتے اگر چھپاتے تو گنہ گار ٹھہرتے اور معصیت ہوتی ۔ خدا نے جب مجھے مامور کر کے بھیجا ہے تو پھر میں حق کا اظہار کروں گا اور جو کام میر ۔ جو کام میرے سپرد ہوا ہے اسے مخلوق کو پہنچاؤں گا اور اس بات کی مجھے کوئی پروا نہیں کہ کوئی شہرت پسند کہے یا کچھ اور ۔ آپ ان کو پھر خط لکھیں کہ وہ یہاں کچھ دن اور رہ جائیں۔ الغرض ان باتوں میں آپ مکان کے قریب پہنچ گئے ۔ اور اس وقت حضرت اقدس نے منشی عبدالحق صاحب کو مخاطب کر کے یہ فرمایا کہ آپ ہمارے مہمان ہیں اور مہمان آرام وہی پاسکتا ہے جو بے تکلف ہو پس آپ کو جس چیز کی ضرورت ہو مجھے بلا تکلف کہہ دیں ۔ اور پھر جماعت کو مخاطب کر کے فرمایا کہ دیکھو! یہ ہمارے مہمان ہیں اور تم میں سے ہر ایک کو مناسب ہے کہ ان سے پورے اخلاق