ملفوظات (جلد 2) — Page 448
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۴۴۸ جلد دوم یہ بالا تفاق اپنے عقیدہ میں داخل کر لیا ہے کہ مسیح ہمارے بدلے لعنتی ہوا چنانچہ تین دن کے لیے اسے ہاویہ میں بھی رکھتے ہیں اب یہ عنتی قربانی جو ان کے عقیدہ کے موافق ہوئی نجات سے کیا تعلق اس کا ہوا ؟ غرض جس قدر اس پر غور کرتے جائیں گے اسی قدر اس کی حقیقت کھلتی جائے گی ۔ میں آپ کو بتاتا ہوں کہ اصل مسیح کے متعلق عیسائیوں اور یہودیوں دونوں نے افراط اور تفریط سے کام لیا ہے۔ عیسائیوں نے تو یہاں تک افراط کی کہ ایک عاجز انسان کو جو ایک ضعیفہ عورت کے پیٹ سے عام آدمیوں کی طرح پیدا ہوا خدا بنا لیا اور پھر گرایا بھی تو یہاں تک کہ اسے ملعون بنایا اور ہاویہ میں گرایا۔ یہودیوں نے تفریط کی یہاں تک کہ معاذ اللہ اسے ولد الزنا قرار دیا اور بعض انگریزوں نے بھی اسے تسلیم کر لیا اور سارا الزام حضرت مریم پر لگایا مگر قرآن شریف نے آکر ان دونوں قوموں کی غلطیوں کی اصلاح کی ۔ عیسائیوں کو بتایا کہ وہ خدا کا رسول تھا خدا نہ تھا اور وہ ملعون نہ تھا مرفوع تھا۔ اور یہودیوں کو بتایا کہ وہ ولد الزنا نہ تھا بلکہ مریم صدیقہ عورت تھی اَحْصَنَتْ فَرْجَهَا (التحریم : ۱۳) کی وجہ سے اس میں نفخ روح ہوا تھا۔ یہی افراط و تفریط اس زمانہ میں بھی ہوئی ہے اور خدا تعالیٰ نے مجھے بھیجا ہے کہ میں ان کی اصل عزت کو قائم کروں مسلمان ناواقفی سے انہیں انسانی صفات سے بڑھ کر قرار دینے میں غلطی کرتے ہیں اور ان کی موت کے راز کی حقیقت سے ناواقف ہیں۔ عیسائی مصلوب قرار دے کر ملعون بناتے ہیں پس اب وقت آیا ہے کہ مسیح کے سر پر سے وہ الزام دور کئے جائیں جو ایک بار محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دور کئے تھے پس اسلام کا کس قدر احسان مسیح پر ہے۔ میں امید کرتا ہوں کہ آپ ان باتوں پر پورا غور کر لیں گے میں آپ کو بار بار یہی کہتا ہوں کہ جب تک آپ کی کہتا سمجھ میں کوئی بات نہ آوے اسے آپ بار بار پوچھیں ورنہ یہ اچھا طریق نہیں ہے کہ ایک بات کو آپ سمجھیں نہیں اور کہہ دیں کہ ہاں سمجھ لیا اس کا نتیجہ برا ہوتا ہے۔ سراج الدین جو یہاں آیا تھا اس نے ایسا ہی کیا اور کچھ فائدہ نہ اٹھایا اس نے آپ کو کچھ کہا تھا ؟ منشی عبد الحق صاحب۔ ہاں وہ مجھے منع کرتے تھے کہ وہاں مت جاؤ کچھ ضرورت نہیں ہے جب ہم نے ایک سچائی کو پالیا پھر کیا ضرورت ہے کہ اور تلاش کرتے پھریں اور یہ بھی انہوں نے کہا تھا کہ جب میں آیا