ملفوظات (جلد 2) — Page 447
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۴۴۷ جلد دوم میرے نزدیک وہ دہر یہ ہے۔ پاک دل جو کسی کی زجر و توبیخ کی پروانہیں کرتا اور جو اقرار کر لینے میں ندامت اور شرمساری نہیں پاتا وہی ہوتا ہے جو حق کو پالیتا ہے۔ ایسے ہی دل پر خدا کے انوار نازل ہوتے ہیں۔ یا د رکھو خدا تعالیٰ ہر گز ایسے شخص کو ضائع نہیں کرتا جو اس کی جستجو میں قدم رکھتا ہے۔ وہ یقیناً ہے اور جیسے ہمیشہ سے اس نے انا الموجود کہا ہے اب بھی کہتا ہے۔ جس طرح حضرت مسیح پر وحی ہوتی تھی اسی طرح اب بھی ہوتی ہے میں سچ کہتا ہوں اور یہ نر ادعوی نہیں اس کے ساتھ روشن دلائل ہیں کہ پہلے کیا تھا جواب نہیں۔ اب بھی وہی خدا ہے جو سدا سے کلام کرتا چلا آیا ہے اس نے اب بھی دنیا کو اپنے کلام سے منور کیا ہے۔ کفارہ ایک اور ضروری بات ہے جو میں کہنی چاہتا ہوں اور وہ کفارہ کے متعلق ہے۔ کفارہ کی مارہ اصل غرض تو یہی بتائی جاتی ہے کہ نجات حاصل ہو اور نجات دوسرے الفاظ میں گناہ کی زندگی اور اس کی موت سے بچ جانے کا نام ہے مگر میں آپ ہی سے پوچھتا ہوں کہ خدا کے لیے انصاف کر کے بتاؤ کہ گناہ کو کسی کی خودکشی سے فلسفیانہ طور پر کیا تعلق ہے؟ اگر مسیح نے نجات کا مفہوم یہی سمجھا اور گناہوں سے بچانے کا یہی طریق انہیں سوجھا تو پھر نعوذ باللہ ہم ایسے آدمی کو تو رسول بھی نہیں مان سکتے کیونکہ اس سے گناہ رک نہیں سکتے ۔ آپ کو یورپ کے حالات اور لنڈن اور پیرس کے واقعات اچھی طرح معلوم ہوں گے ۔ بتاؤ کون سا پہلو گناہ کا ہے جو نہیں ہوتا ۔سب سے بڑھ کر زنا تو رات میں بدتر لکھا ہے مگر دیکھو کہ یہ سیلاب کس زور سے ان قوموں میں آیا ہے جن کا یقین ہے کہ مسیح ہمارے لیے مرا۔ اس خود کشی کے طریق سے تو بہتر یہ تھاکہ مسح دعا کرتا کہ اور یہی عمر ملے تا کہ وہ نصیحت اور وعظ ہی کے ذریعہ لوگوں کو فائدہ پہنچا تا مگر یہ سو جبھی تو کیا سوجھی؟ اس کے علاوہ ایک اور بات بھی ہے جو میں نے پیش کی تھی اور اب تک کسی عیسائی نے اس کا جواب نہیں دیا اور وہ یہ ہے کہ مسیح ہمارے بدلے لعنتی ہوا ۔ اب لعنت کے معنوں کے لیے عبرانی یا عربی کے لغات نکال کر دیکھ لو کہ ملعون کسے کہتے ہیں۔ لغت کی کتابوں میں صاف لکھا ہوا ہے کہ لعین شیطان کا نام ہے اور ملعون وہ شخص ہوتا ہے جس کا خدا سے کوئی تعلق نہ ہو اور وہ خدا سے دور ہو۔ اب عیسائیوں نے