ملفوظات (جلد 2) — Page 446
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۴۴۶ جلد دوم اور یہ بات انگریز محققوں نے بھی مان لی ہے کہ کشمیری در اصل بنی اسرائیل ہیں چنانچہ بر نئیر نے اپنے سفر نامہ میں یہی لکھا ہے۔ اب جبکہ یہ ثابت ہوتا ہے اور واقعات صحیحہ کی بنا پر ثابت ہوتا ہے کہ وہ صلیب پر نہیں مرے بلکہ زندہ اتر آئے تو پھر کفارہ کا کیا باقی رہا۔ پھر سب سے عجیب تریہ بات ہے کہ عیسائی جس عورت کی شہادت پر مسیح کو آسمان پر چڑھاتے ہیں وہ خود ایک اچھے اور شریف چال چلن کی عورت نہ تھی ۔ لے یا درکھو کہ ایک فعل انسان کی طرف سے اولاً سرزد ہوتا ہے پھر اس میں تلاش حق کے آداب جوار یا خاصیت مخفی ہو تعالی کا پر جو اثر یا خاصیت مخفی ہو خدا تعالیٰ کا ایک فعل اس پر مترتب ہو کر اسے ظاہر کر دیتا ہے مثلاً جب ہم اپنے گھر کی کوٹھڑی کی کھڑکی کو بند کر لیتے ہیں تو یہ ہمارا فعل ہے اور اس پر خدا تعالیٰ کا فعل یہ سرزد ہوتا ہے کہ اس کوٹھڑی میں روشنی اور ہوا کی آمد رفت بند ہو کر تاریکی ہو جائے گی۔ پس یہ ایک عادت اللہ اور قدیم سے اسی طرح پر چلی آتی ہے اور اس میں کوئی تغییر، تبدل نہیں ہو سکتا ہے کہ انسانی فعل پر خدا کی طرف سے ایک فعل سرزد ہوتا ہے اسی طرح پر جیسے یہ نظام ظاہری ہے اندرونی انتظام میں بھی یہی قانون ہے جو شخص صاف دل ہو کر تلاش حق کرتا ہے اور اگر کچھ نہیں تو کم از کم سلب عقائد ہی کی حالت میں آتا ہے تو وہ سچائی کو ضرور پالیتا ہے لیکن اگر وہ اپنے دل میں پہلے سے ایک بات کا فیصلہ کر لیتا ہے اور ضد اور تعصب کے حلقوں میں گرفتار دل لے کر آتا ہے تو اس کا نتیجہ یہی ہوتا ہے کہ اس کا معاندانہ جوش بڑھ کر فطرت کے انوار کو دبا لیتا ہے اور دل سیاہ ہو جاتا ہے پھر وہ ہےکہ کا کر اندر بالیتا حق و باطل میں امتیاز کرنے کی توفیق نہیں پاتا ہے۔ پس خدا تعالیٰ سے پاکیزگی اور ہدایت کے پانے کے لئے خود بھی اپنے اندر ایک پاکیزگی کو پیدا کرنا چاہیے اور وہ یہی ہے کہ انسان بخل اور تعصب کو چھوڑ دے اور اپنے نفس کو ہرگز دھوکا نہ دے۔ یہ بالکل سچ ہے کہ جو شخص تلاش حق کا دعوی کر کے نکلتا ہے اور پھر اپنی جگہ پہلے ہی کسی مذہب کے اصول کو فیصلہ کر کے قطعی بھی قرار دے لیتا ہے وہ دنیا کا طالب ہوتا ہے جو دنیا کی فتح و شکست پر مرتا ہے۔ میں اس بات کا قائل نہیں ہو سکتا کہ وہ خدا کو مانتا ہے۔ نہیں الحکم جلد ۶ نمبر ۳ مورخه ۲۴ جنوری ۱۹۰۲ صفحه ۳، ۴