ملفوظات (جلد 2) — Page 445
ملفوظات حضرت مسیح موعود لدلد جلد دوم اپنی مثال یونس سے دی ہے۔ کیا یونس مچھلی کے پیٹ میں زندہ داخل ہوئے تھے یا مر کر اور پھر یہ کہ پیلاطوس کی بیوی نے ایک ہولناک خواب دیکھا تھا جس کی اطلاع پیلاطوس کو بھی اس نے کر دی اور وہ اس فکر میں ہو گیا کہ اس کو بچایا جاوے اور اسی لیے پیلاطوس نے مختلف پیرایوں میں مسیح کے چھوڑ دینے کی کوشش کی اور آخر اپنے ہاتھ دھو کر ثابت کیا کہ میں اس سے بری ہوں اور پھر جب یہودی کسی طرح ماننے والے نظر نہ آئے تو یہ کوشش کی گئی کہ جمعہ کے دن بعد عصر آپ کو صلیب دی گئی اور چونکہ صلیب پر بھوک پیاس اور دھوپ وغیرہ کی شدت سے کئی دن رہ کر مصلوب انسان مر جایا کرتا تھا وہ موقع مسیح کو پیش نہ آیا کیونکہ یہ کسی طرح نہیں ہو سکتا تھا کہ جمعہ کے دن غروب ہونے سے پہلے اسے صلیب پر سے نہ اتار لیا جاتا کیونکہ یہودیوں کی شریعت کے رو سے یہ سخت گناہ تھا کہ کوئی شخص سبت یا سبت سے پہلے رات صلیب پر رہے۔ مسیح چونکہ جمعہ کی آخری گھڑی صلیب پر چڑھا یا گیا تھا اس لئے بعض واقعات آندھی وغیرہ کے پیش آجانے سے فی الفور اتار لیا گیا پھر دو چور جو مسیح کے ساتھ صلیب پر لٹکائے گئے تھے ان کی ہڈیاں تو توڑ دی گئیں تھیں مگر مسیح کی ہڈیاں نہیں توڑی گئی تھیں ۔ اور پھر مسیح کی لاش ایک ایسے آدمی کے سپرد کر دی گئی جو مسیح کا شاگرد تھا اور اصل تو یہ ہے کہ خود پیلاطوس اور اس کی بیوی بھی اس کی مرید تھی چنانچہ پیلاطوس کو عیسائی شہیدوں میں لکھا ہے اور اس کی بیوی کو ولیہ قرار دیا ہے اور ان سب سے بڑھ کر مرہم عیسیٰ کا نسخہ ہے جس کو مسلمان ، یہودی ، رومی اور عیسائی اور مجوسی طبیبوں نے بالا تفاق لکھا ہے کہ یہ مسیح کے زخموں کے لیے تیار ہوا تھا اور اس کا نام مرہم عیسیٰ اور مرہم حوار بین اور مرہم رسل اور مرہم شلیخہ وغیرہ بھی رکھا۔ کم از کم ہزار کتاب میں یہ نسخہ موجود رکھا۔ کم ازکم ہزار یہ ہے اور یہ کوئی عیسائی ثابت نہیں کر سکتا کہ صلیبی زخموں کے سوا اور بھی کبھی کوئی زخم مسیح کو لگے تھے اور اس وقت حواری بھی موجود تھے۔ اب بتاؤ کہ کیا یہ تمام اسباب اگر ایک جا جمع کیے جاویں تو صاف شہادت نہیں دیتے کہ مسیح صلیب پر سے زندہ بچ کر اتر آیا تھا۔ بر اس پر اس وقت ہم کو کوئی لمبی بحث نہیں کرنی ہے یہودیوں کے جو فرقے متفرق ہو کر افغانستان یا کشمیر میں آگئے تھے وہ ان کی تلاش میں ادھر چلے آئے اور پھر آخر کشمیر ہی میں انہوں نے وفات پائی