ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 426 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 426

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۴۲۶ جلد دوم رض ہیں؟ ہر گز نہیں ۔ وہ لوگ جنہوں نے آپ کی ذات خاص اور عزیزوں اور صحابہ کو سخت تکلیفیں دی تھیں اور نا قابل عفو ایذائیں پہنچائی تھیں آپ نے سزا دینے کی قوت اور اقتدار کو پا کر فی الفور ان کو بخش دیا حالانکہ اگر ان کو سزادی جاتی تو یہ بالکل انصاف اور عدل تھا مگر آپ نے اس وقت اپنے عفو اور کرم کا نمونہ دکھایا۔ یہ وہ امور تھے کہ علاوہ معجزات کے صحابہ پر مؤثر ہوئے تھے اس لیے آپ اسم با مسمی محمد ہو گئے تھے صلی اللہ علیہ وسلم ۔ اور زمین پر آپ کی حمد ہوتی تھی اور اسی طرح آسمان پر بھی آپ کی تعریف ہوتی تھی اور آسمان پر بھی آپ محمد تھے یہ نام آپ کا اللہ تعالیٰ نے بطور نمونہ کے دنیا کو دیا ہے۔ جب تک انسان اس قسم کے اخلاق اپنے اندر پیدا نہیں کرتا کچھ فائدہ نہیں ہوتا۔ اللہ تعالیٰ کی محبت کامل طور پر انسان اپنے اندر پیدا نہیں کر سکتا۔ جب تک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق اور طرز عمل کو اپنا رہبر اور ہادی نہ بنالے چنانچہ خود اللہ تعالیٰ نے اس کی بابت فرمایا ہے قُلْ إِن كُنتُم تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ الله (ال عمران : ۳۲) یعنی محبوب الہی بننے کے لیے ضروری ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کی جاوے ۔ سچی اتباع آپ کے اخلاق فاضلہ کا رنگ اپنے اندر پیدا کرنا ہوتا ہے مگر افسوس ہے کہ آج کل لوگوں نے اتباع سے مراد صرف رفع یدین، آمین بالجہر اور رفع سبابہ ہی لے لیا ہے۔ باقی امور کو جو اخلاق فاضلہ آپ کے تھے اُن کو چھوڑ دیا۔ یہ منافق کا کام ہے کہ آسان اور چھوٹے اُمور کو بجالاتا ہے اور مشکل کو چھوڑتا ہے۔ سچے مومن اور مخلص مسلمان کی ترقیوں اور ایمانی درجوں کا آخری نقطہ تو یہی ہے کہ وہ سچا متبع ہو اور آپ کے تمام اخلاق کو حاصل کرے جو سچائی کو قبول نہیں کرتا وہ اپنے آپ کو دھوکا دیتا ہے۔ کروڑوں مسلمان دنیا میں موجود ہیں اور مسجد میں بھی بھری ہوئی نظر آتی ہیں مگر کوئی برکت اور ظہور ان مسجدوں کے بھرے ہوئے ہونے سے نظر نہیں آتا اس لیے کہ یہ سب کچھ جو کیا جاتا ہے محض رسوم اور عادات کے طور پر کیا جاتا ہے۔ وہ سچا اخلاص اور وفا جو ایمان کے حقیقی لوازم ہیں ان کے ساتھ پائے نہیں جاتے۔ سب عمل ریا کاری اور نفاق کے پردوں کے اندر مخفی ہو گئے ہیں۔ جوں جوں انسان ان کے حالات سے واقف ہوتا جاتا ہے اندر سے گند اور خبث نکلتا آتا ہے۔ مسجد سے نکل کر گھر کی تفتیش کرو تو یہ ننگ اسلام نظر آئیں گئے۔