ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 425 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 425

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۴۲۵ جلد دوم کوئی معجزہ ہمیں دکھائے ۔ ایک آدمی کا درست کرنا مشکل ہوتا ہے مگر یہاں تو ایک قوم تیار کی گئی کہ جنہوں نے اپنے ایمان اور اخلاص کا وہ نمونہ دکھا یا کہ بھیڑ بکری کی طرح اس سچائی کے لئے ذبح ہو گئے جس کو انہوں نے اختیار کیا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ زمینی نہ رہے تھے بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم ہدایت اور مؤثر نصیحت نے ان کو آسمانی بنادیا تھا۔ قدسی صفات ان میں پیدا ہوگئی تھیں ۔ دنیا کی خباثتوں اور ریا کاریوں سے وہ ایسے سبک اور ہلکے پھلکے کر دیئے گئے تھے کہ ان میں پرواز کی قوت پیدا ہو گئی تھی ۔ یہ وہ نمونہ ہے جو ہم اسلام کا دنیا کے سامنے پیش کرتے ہیں اسی اصلاح اور ہدایت کا باعث تھا جو اللہ تعالیٰ نے پیشگوئی کے طور پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا نام محمد رکھا جس سے زمین پر بھی آپ کی ستائش ہوئی کیونکہ آپ نے زمین کو امن صلح کاری اور اخلاق فاضلہ اور نیکوکاری سے بھر دیا تھا۔ میں نے پہلے بھی کہا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے جس قدر اخلاق ثابت ہوئے ہیں وہ کسی اور نبی کے نہیں کیونکہ اخلاق کے اظہار کے لیے جب تک موقع نہ ملے کوئی اخلاق اخلاق ثابت نہیں ہو سکتا مثلاً سخاوت ہے لیکن اگر روپیہ نہ ہو تو اس کا ظہور کیوں کر ہوا یسا ہی کسی کو لڑائی کا موقع نہ ملے تو شجاعت کیوں کر ثابت ہو۔ ایسا ہی عفو اس صفت کو وہ ظاہر کر سکتا ہے جسے اقتدار حاصل ہو۔ غرض سب خلق موقع سے وابستہ ہیں ۔ اب سمجھنا چاہیے کہ یہ کس قدر خدا کے فضل کی بات ہے کہ آپ کو تمام اخلاق کے اظہار کے موقعے ملے حضرت عیسی علیہ السلام کو وہ موقعے نہیں ملے مثلاً آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو سخاوت کا موقع ملا ۔ آپ کے پاس ایک موقع پر بہت سی بھیڑ بکریاں تھیں ۔ ایک کافر نے کہا کہ آپ کے پاس اس قدر بھیڑ بکری جمع ہیں کہ قیصر و کسری کے پاس بھی اس قدر نہیں ۔ آپ نے سب کی سب اس کو بخش دیں ۔ وہ اسی وقت ایمان لے آیا کہ نبی کے سوا اور کوئی اس قسم کی عظیم الشان سخاوت نہیں کر سکتا ۔ مکہ میں جن لوگوں نے دکھ دیئے تھے جب آپ نے مکہ کو فتح کیا تو آپ چاہتے تو سب کو ذبح کر دیتے مگر آپ نے رحم کیا اور لا تَثْرِيبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ (یوسف : ۹۳) کہہ دیا ۔ آپ کا بخشنا تھا کہ سب مسلمان ہو گئے ۔ اب اس قسم کے عظیم الشان اخلاق فاضلہ کیا کسی نبی میں پائے جاتے