ملفوظات (جلد 2) — Page 427
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۴۲۷ جلد دوم مثنوی میں ایک حکایت لکھی ہے کہ ایک کوٹھا ہزار من گندم کا بھرا ہوا خالی ہو گیا۔ اگر بچو ہے اس کو نہیں کھا گئے تو وہ کہاں گیا۔ پس اسی طرح پر پچاس برس کی نمازوں کی جب برکت نہیں ہوئی اگر ریا اور نفاق نے ان کو باطل اور حبط نہیں کیا تو وہ کہاں گئیں ۔ خدا کے نیک بندوں کے آثاران میں پائے نہیں جاتے۔ ایک طبیب جب کسی مریض کا علاج کرتا ہے اگر وہ نسخہ اس کے لیے مفید اور کارگر نہ ہو تو چند روز کے تجربہ کے بعد اس کو بدل دیتا ہے اور پھر تشخیص کرتا ہے لیکن ان مریضوں پر تو وہ نسخہ استعمال کیا گیا ہے جو ہمیشہ مفید اور زوداثر ثابت ہوا ہے تو اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے نسخہ کے استعمال میں غلطی اور بد پرہیزی کی ہے۔ یہ تو ہم کہ نہیں سکتے کہ ارکان اسلام میں غلطی تھی اور نماز ، روزہ، حج ، زکوۃ مؤثر علاج نہ تھا کیونکہ اس نسخہ نے ان مریضوں کو اچھا کیا جن کی نسبت لا علاج ہونے کا فتوی دیا گیا تھا۔ خودتراشیده وظائف میں جانتا ہوں کہ جن لوگوں نے ان ارکان کو چھوڑ کر اور بدعتیں تراشی ہیں یہ اُن کی اپنی شامت اعمال ہے ورنہ قرآن شریف تو کہہ چکا تھا الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمُ (المائدة : (٤) ۔ اکمال دین ہو چکا تھا اور اتمام نعمت بھی ۔ خدا کے حضور پسندیدہ دین اسلام ٹھہر چکا تھا ۔ اب پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے اعمال خیر کی راہ چھوڑ کر اپنے طریقے ایجاد کرنا اور قرآن شریف کی بجائے اور وظائف اور کافیاں پڑھنا یا اعمال صالحہ کے بجائے قسم قسم کے ذکر اذکار نکال لینا یہ لذت روح کے لیے نہیں ہے بلکہ لذت نفس کی خاطر ہے۔ لوگوں نے لذت نفس اور لذت روح میں فرق نہیں کیا اور دونوں کو ایک ہی چیز قرار دیا ہے حالانکہ وہ دو مختلف چیزیں ہیں ۔ اگر لذت نفس اور لذت روح ایک ہی چیز ہے تو میں پوچھتا ہوں کہ ایک بدکار عورت کے گانے سے بد معاشوں کو زیادہ لذت آتی ہے۔ کیا وہ اس لذت نفس کی وجہ سے عارف باللہ اور کامل انسان مانے جائیں گئے ۔ ہر گز نہیں ۔ جن لوگوں نے خلاف شرع اور خلاف پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم راہیں نکالی ہیں ان کو یہی دھوکا لگا ہے کہ وہ نفس اور روح کی لذت میں کوئی فرق نہیں کر سکے ورنہ وہ ان بیہودگیوں میں روح کی لذت اور اطمینان نہ