ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 420 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 420

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۴۲۰ جلد دوم بالکل رعایت اسباب کی نہ کی جاوے ضروری ہوگا کہ تمام قوتوں کو جو اللہ تعالیٰ نے انسان کو عطا کی ہیں بالکل بے کار چھوڑ دیا جاوے اور ان سے کوئی کام نہ لیا جاوے اور اُن سے کام نہ لینا اور ان کو بے کار چھوڑ دینا خدا تعالیٰ دینا خدا تعالیٰ کے فعل کو لغو اور عبث قرار دینا ہے ۔ جو با رار دینا ہے۔ جو بہت بڑا گناہ ہے۔ پس ہمارا یہ منشا اور مذہب ہرگز نہیں کہ اسباب کی رعایت بالکل ہی نہ کی جاوے بلکہ رعایت اسباب اپنی حد تک ضروری ہے۔ آخرت کے لیے بھی اسباب ہی ہیں۔ خدا تعالیٰ کے احکام کی بجا آوری اور بدیوں سے بچنا اور دوسری نیکیوں کو اختیار کرنا اسی لیے ہے کہ اس عالم اور دوسرے عالم میں سکھ ملے تو گویا یہ نیکیاں اسباب کے قائم مقام ہیں ۔ اسی طرح پر یہ بھی خدا تعالیٰ نے منع نہیں کیا کہ دنیوی ضرورتوں کے پورا کرنے کے لیے اسباب کو اختیار کیا جاوے۔ نوکری والا نوکری کرے، زمیندار اپنی زمینداری کے کاموں میں رہے، مزدور مزدوریاں کریں تا وہ اپنے عیال واطفال اور دوسرے متعلقین اور اپنے نفس کے حقوق کو ادا کر سکیں۔ پس ایک جائز حد تک یہ سب درست ہے اور اس کو منع نہیں کیا جا تا لیکن جب انسان حد سے تجاوز کر کے اسباب ہی پر پورا بھروسہ کرلے اور سارا دارو مدار اسباب ہی پر جا ٹھہرے تو یہ وہ شرک ہے جو انسان کو اُس کے اصلی مقصد سے دور پھینک دیتا ہے مثلاً کوئی شخص یہ کہے کہ اگر فلاں سبب نہ ہوتا تو میں بھوکا مر جاتا یا اگر یہ جائیداد یا فلاں کام نہ ہوتا تو میرا برا حال ہو جاتا ، فلاں دوست نہ ہوتا تو تکلیف ہوتی ۔ یہ امور اس قسم کے ہیں کہ خدا تعالیٰ ان کو ہرگز پسند نہیں کرتا کہ جائیداد یا اور اسباب و احباب پر اس قدر بھروسہ کیا جاوے کہ خدا تعالیٰ سے بکلی دُور جا پڑے۔ یہ خطرناک شرک ہے جو قرآن شریف کی تعلیم کے صریح خلاف ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا وَ فِي السَّمَاءِ رِزْقُكُمْ وَمَا تُوعَدُونَ (الذاريت : (۲۳) او :۲۳) اور فرمایا وَ مَنْ يَتَوَكَّلْ عَلَى اللهِ فَهُوَ حَسْبُهُ (الطلاق: (۴) او اور فرمایا مَنْ يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَل لَّهُ مَخْرَجًا وَيَرْزُقُهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ (الطلاق: ۴،۳) اور فرمایا وَ هُوَ يَتَوَلَّى الصَّلِحِينَ (الاعراف: ۱۹۷) ۔ قرآن شریف اس قسم کی آیتوں سے بھرا پڑا ہے کہ وہ متقیوں کا متوتی اور متکفل ہوتا ہے تو پھر