ملفوظات (جلد 2) — Page 419
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۴۱۹ جلد دوم سے دور ہوتا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ آخر گرتے گرتے ایسی سفلی جگہ پر جا پڑتا ہے جو مصائب اور مشکلات اور ہر قسم کی تکلیفوں اور دکھوں کا گھر ہے جس کو جہنم بھی کہتے ہیں۔ دیکھو! انسان کا اگر کوئی عضوا اپنی اصلی جگہ سے ہٹا دیا جاوے مثلاً باز وہی اگر اُتر جاوے یا ایک انگلی یا انگوٹھا ہی اپنے اصلی مقام سے ہٹ جاوے تو مقام سے ہٹ جاوے تو کس قدر درد اور کرب پیدا ہوتا ہے۔ یہ؟ یہ جسمانی نظاره روحانی اور اُخروی عالم کے لیے ایک زبردست دلیل ہے اور جہنم کے وجود پر ایک گواہ ہے۔ گناہ یہی ہوتا ہے کہ انسان اس مقصد سے جو اس کی پیدائش سے رکھا گیا ہے دُور ہٹ جاوے۔ پس اپنے محل سے ہٹنے میں صاف درد کا ہونا ضروری ہے۔ شرک سے بچو تو شرک ایسی چیز ہے کہ جوانسان کواس کے اصلی مقصد سے ہٹا کر جنم کا وارث سے بنا دیتا ہے۔ شرک کی کئی قسم ہیں۔ ایک تو وہ موٹا اور صریح شرک ہے جس میں ہندو، عیسائی، یہود اور دوسرے بہت پرست لوگ گرفتار ہیں ۔ جس میں کسی انسان یا پتھر یا اور بے جان چیزوں یا قوتوں یا خیالی دیویوں اور دیوتاؤں کو خدا بنالیا گیا ہے اگر چہ یہ شرک ابھی تک دنیا میں موجود ہے لیکن یہ زمانہ روشنی اور تعلیم کا کچھ ایسا زمانہ ہے کہ عقلیں اس قسم کے شرک کو نفرت کی نگاہ سے دیکھنے لگ گئی ہیں ۔ یہ جدا امر ہے کہ وہ قومی مذہب کی حیثیت سے بظاہر ان بے ہودگیوں کا اقرار کریں لیکن در اصل بالطبع لوگ ان سے متنفر ہوتے جاتے ہیں مگر ایک اور قسم کا شرک ہے جو خفی طور پر زہر کی طرح اثر کر رہا ہے اور وہ اس زمانہ میں بہت بڑھتا جاتا ہے اور وہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ پر بھروسہ اور اعتماد بالکل نہیں رہا۔ رعایت اسباب اور تو گل ہم یہ ہرگزنہیں کہے اور نہ ہمارا مذہب ہے کہ اسباب کی رعایت بالکل نہ کی جاوے کیونکہ خدا تعالیٰ نے رعایت اسباب کی ترغیب دی ہے اور اس حد تک جہاں تک یہ رعایت ضروری ہے اگر رعایت اسباب نہ کی جاوے تو انسانی قوتوں کی بے حرمتی کرنا اور خدا تعالیٰ کے ایک عظیم الشان فعل کی توہین کرنا ہے کیونکہ ایسی حالت میں جبکہ