ملفوظات (جلد 2) — Page 421
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۴۲۱ جلد دوم جب انسان اسباب پر تکیہ اور توکل کرتا ہے تو گویا خدا تعالیٰ کی ان صفات کا انکار کرتا ہے اور ان اسباب کو ان صفات سے حصہ دیتا ہے اور ایک اور خدا اپنے لیے ان اسباب کا تجویز کرتا ہے چونکہ وہ ایک پہلو کی طرف جھکتا ہے اس سے شرک کی طرف گویا قدم اُٹھاتا ہے ۔ جو لوگ حکام کی طرف جھکے ہوئے ہیں اور اُن سے انعام یا خطاب پاتے ہیں اُن کے دل میں اُن کی عظمت خدا کی سی عظمت داخل ہو جاتی ہے۔ وہ اُن کے پرستار ہو جاتے ہیں اور یہی ایک امر ہے جو توحید کا استیصال کرتا ہے اور انسان کو اُس کے اصلی مقصد سے اُٹھا کر دور پھینک دیتا ہے۔ پس انبیاء علیہم السلام یہ تعلیم دیتے ہیں کہ ا۔ دیتے ہیں کہ اسباب اور توحید میں تناقض نہ ہونے پاوے بلکہ ہر ایک اپنے اپنے مقام پر رہے اور مال کار توحید پر جا ٹھہرے۔ وہ انسان کو یہ سکھانا چاہتے ہیں کہ ساری عزتیں سارے آرام اور حاجات براری کا متکفل خدا ہی ہے۔ پس اگر اس کے مقابل میں کسی اور کو بھی قائم کیا جاوے تو صاف ظاہر ہے کہ دو ضدوں کے تقابل سے ایک ہلاک ہو جاتی ہے۔ اس لیے مقدم ہے کہ خدا تعالیٰ کی توحید ہو۔ رعایت اسباب کی جاوے اسباب کو خدا نہ بنایا جاوے۔ اسی توحید سے ایک محبت خدا تعالیٰ سے پیدا ہوتی ہے جب کہ انسان یہ سمجھتا ہے کہ نفع و نقصان اسی کے ہاتھ میں ہے۔ محسن حقیقی وہی ہے۔ ذرہ ذرہ اُسی سے ہے۔ کوئی دوسرا درمیان نہیں آتا۔ جب انسان اس پاک حالت کو حاصل کرلے تو وہ موحد کہلاتا ہے۔غرض ایک حالت توحید کی یہ ہے کہ انسان پتھروں یا انسانوں یا اور کسی چیز کو خدا نہ بناوے بلکہ ان کو خدا بنانے سے بیزاری اور نفرت ظاہر کرے اور دوسری حالت یہ ہے کہ رعایت اسباب سے نہ گزرے۔ نفس اور موحد مد اپنے نفس اور وجود کی نفی کرتا ہے تیری قسم یہ ہے کہ اپنے نفس اور وجود کے اغراض کو بھی درمیان سے اُٹھا دیا جاوے اور اس کی نفی کی جاوے۔ بسا اوقات انسان کے زیر نظر اپنی خوبی اور طاقت بھی ہوتی ہے کہ فلاں نیکی میں نے اپنی طاقت سے کی ہے۔ انسان اپنی طاقت پر ایسا بھروسہ کرتا ہے کہ ہر کام کو اپنی ہی قوت سے منسوب کرتا ہے۔ انسان موحد تب ہوتا ہے کہ جب اپنی طاقتوں کی بھی نفی کر دے۔ لیکن اب اس جگہ یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ انسان جیسا کہ تجربہ دلالت کرتا ہے عموماً کوئی نہ کوئی