ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 418 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 418

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۴۱۸ میں آپ کے حضور اقرار کرتا ہوں ۔ رَضِينَا بِاللَّهِ رَبًّا وَبِكَ مَسِيحًا وَ مَهْدِيًّا - او اس تقریر کے ساتھ ہی حضرت اقدس نے بھی اپنی تقریر ختم کر دی۔ کے ۱۴ دسمبر ۱۹۰۱ء بعد نماز مغرب کی ایک تقریر ۔ جلد دوم ایک بہت ہی ضروری امر ہے جو میں بیان کرنا چاہتا ہوں اگر چہ میری طبیعت بھی اچھی نہیں ہے لیکن کل نواب صاحب جو جانے والے ہیں ۔ اس لیے میں نے مناسب سمجھا کہ میں بیان کر دوں تا کہ وہ بھی سن لیں اور جماعت کے دوسرے لوگ بھی سن لیں اور وہ یہ ہے کہ انبیاء کی بعثت کی اصل غرض تمام انبیاء علیہم السلام جو دنیا میں آئے ہیں اگر چہ انہوں نے جو احکام دنیا کو سنائے وہ مبسوط اور مُطَوَّل تھے اور بہت کچھ جزئیات بھی بیان کر دیں اور تمام امور جو توحید ، تہذیب، معاملات اور معاد کے متعلق ہوتے ہیں غرض جس قدر امور انسان کو چاہیے ان سب کے متعلق وہ ہر قسم کی ہدایتیں اور تعلیمیں لوگوں کو دیا کرتے تھے۔ باوجود ان ساری جز کی تعلیموں ! وں اور ہدایتوں کے ہر ایک نبی کی اصل غرض اور مقصد یہ رہا ہے کہ لوگ گناہوں سے نجات پا کر اور ہر قسم کی بدیوں اور بدکاریوں سے بکلی نفرت کر کے پاکر اور ہرقسم خدا ہی کے لیے ہو جاویں۔ انسانی پیدائش کی اصل غرض اور مقصد بھی یہی ہے کہ وہ خدا ہی کے لیے ہو جائے ۔ اس لیے انبیاء علیہم السلام کی بعثت کی غرض اسی مقصد کی طرف انسان کو رہبری کرنا ہوتا ہے تا کہ وہ اپنی گم گشتہ متاع اور مقصد کو پھر حاصل کر لے۔ گناہ اگر چہ بہت ہیں اور ان کے بہت سے شعبے اور شاخیں ہیں ۔ یہاں تک کہ ہر ادنی قسم کی غفلت بھی گناہ میں داخل ہے لیکن عظیم الشان گناہ جو اس مقصد عظیم کے بالمقابل انسان کو اصل مقصد سے ہٹانے کے لیے پڑا ہوا ہے وہ شرک ہے۔ انسان کی پیدائش کی اصل غرض اور مقصد یہ ہے کہ وہ خدا ہی کے لیے ہوجائے اور گناہ اور اس کے محرکات سے بہت دور رہے اس لیے کہ جوں جوں بد قسمت انسان اس میں مبتلا ہوتا ہے اُسی قدر اپنے اصلی مدعا الحکم جلد ۶ نمبر ۴۴ مورخه ۱۰ دسمبر ۱۹۰۲ صفحه ۲۰۱