ملفوظات (جلد 2) — Page 417
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۴۱۷ جلد دوم بھی اچھی ہوگی کیونکہ اللہ تعالیٰ وعدہ فرما چکا ہے وَ جَاعِلُ الَّذِينَ اتَّبَعُوكَ فَوْقَ الَّذِينَ كَفَرُوا إِلَى يَوْمِ الْقِيمَةِ ( ال عمران : ۵۶) ۔ در حقیقت وہ زمانہ آتا ہے کہ ان کو امیت سے نکال کر خود قوت بیان عطا کرے گا اور وہ منکروں پر غالب ہوں گے لیکن جو شخص دلائل اور نشانات کو دیکھتا ہے اور پھر دیانت ، امانت اور انصاف کو ہاتھ سے چھوڑتا ہے اسے یاد رکھنا چاہیے کہ مَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَى عَلَى اللَّهِ كَذِبًا أَوْ كَذَّبَ بايته (الانعام : ۲۲) تم بہت سے نشانات دیکھ چکے ہو اور حروف تہجی کے طور پر اگر ایک نقشہ تیار کیا جاوے تو کوئی حرف باقی نہ رہے گا کہ اس میں کئی کئی نشان نہ آئیں ۔ تریاق القلوب میں بہت سے نشان جمع کئے گئے ہیں اور تم نے اپنی آنکھوں سے پورے ہوتے دیکھے ۔ اب وقت ہے کہ تمہارے ایمان مضبوط ہوں اور کوئی زلزلہ اور صادق کو نشان کی ضرورت آندھی تمہیں بلانہ سکے۔ بعض تم میں ایسے بھی صادق ہیں کہ اُنہوں نے کسی نشان کی اپنے لیے ضرورت نہیں سمجھی گو خدا نے اپنے فضل سے ان کو سینکڑوں نشان دکھا دیئے لیکن اگر ایک بھی نشان نہ ہوتا تب بھی وہ مجھے صادق یقین کرتے اور میرے ساتھ تھے چنانچہ مولوی نورالدین صاحب کسی نشان کے طالب نہیں ہوئے ۔ انہوں نے سنتے ہی امنا کہہ دیا اور فاروقی ہو کر صدیقی عمل کر لیا۔ لکھا ہے کہ حضرت ابو بکر شام کی طرف گئے ہوئے تھے واپس آئے تو راستہ ہی میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دعوی نبوت کی خبر پہنچی وہیں انہوں نے تسلیم کر لیا۔ حضرت اقدس نے اس قدر تقریر فرمائی تھی کہ مولانا مولوی نور الدین صاحب حکیم الامت ایک جوش اور صدق کے نشہ سے سرشار ہو کر اُٹھے اور کہا کہ میں اس وقت حاضر ہوا ہوں کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حضور رَضِيْتُ بِاللهِ رَبَّا وَ بِمُحَمَّدٍ نَّبِيًّا کہہ کر اقرار کیا تھا۔ اب میں اس وقت صادق امام مسیح موعود اور مہدی معہود کے حضور وہی اقرار کرتا ہوں کہ مجھے کبھی ذرا بھی شک اور وہم حضور کے متعلق نہیں گزرا اور یہ خدا تعالیٰ کا فضل ہے ۔ ہم جانتے ہیں کہ بہت سے اسباب ایسے ہیں جن کا ہمیں علم نہیں ! یں اور میں نے ہمیشہ اس کو آداب نبوت کے خلاف سمجھا ہے کہ کبھی کوئی سوال اس قسم کا کروں۔