ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 416 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 416

ملفوظات حضرت مسیح موعود ملا کی نبی کی کتاب پیش کر دیں گے۔ ۴۱۶ جلد دوم اس قدر معجزات جو حضرت مسیح سے صادر ہوئے بیان کئے جاتے ہیں کہ وہ مردوں کو زندہ کرتے تھے ایلیا کو بھی زندہ کر کے لے آتے ۔ ایماناً بتاؤ کہ کیا ایلیا کا ابتلا بڑا تھا یا نمازوں کو جمع کرنے کا ابتلا جس ابتلا نے حضرت مسیح کو صلیب پر چڑھا دیا ۔ اب اس قدر لوگ جو گمراہ ہوئے اور مسیح اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے منکر رہے تو اس کا باعث وہی ایلیا کا ابتلاہی ہے یا کچھ اور غرض ابتلا کا آنا ضروری ہے مگر سچا مومن کبھی ان سے ضائع نہیں کیا جاتا ۔ اس قسم کے لوگوں نے کسی زمانہ میں بھی فائدہ نہیں اٹھایا۔ کیا حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں انہوں نے فائدہ اٹھایا یا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ۔ میں نے عام طور پر شائع کیا کہ استجابت دعا کا مجھے نشان دیا گیا ہے جو چاہے میرے مقابلہ پر آئے ۔ میں نے کہا کہ جو مجھے حق پر نہیں سمجھتا وہ میرے ساتھ مباہلہ کرلے۔ میں نے یہ بھی شائع کیا کہ قرآن کریم کے حقائق و معارف کا ایک نشان مجھے عطا ہوا اس میں مقابلہ کر کے دیکھ لومگر ایک بھی ایسانہ ہوا جو میرے سامنے آتا اور میری دعوت کو قبول کر لیتا۔ پھر خدا نے مجھے بشارت دی کہ يَنْصُرُكَ اللهُ فِي مَوَاطِن اور اس کا ثبوت دیا کہ ہر میدان میں مجھے کامیاب کیا پس اگر ان نشانات سے کوئی فائدہ نہیں اٹھاتا اور اس کی تسلی نہیں ہوتی پھر وہ کسی اور کے پاس جاوے یا کسی عیسائی کے پاس جاوے اور تسلی کر لے اگر کر سکتا ہے لیکن سچائی کو چھوڑ کر تسلی کہاں فَمَا ذَا بَعْدَ الْحَقِّ إِلَّا الضَّلَلُ ( يونس: ٣٣) ایسے لوگ لَا مِنَ الْأَحْيَاءِ وَلَا مِنَ الْأَمْوَاتِ کے مصداق ہوتے ہیں غرض نمازوں کے جمع کرنے میں یہ راز اور ستر تھا اور اِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِيَّاتِ اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ آیا یہ سستی اور کسل کی وجہ تھا یا ایک معقول اور مبارک طریق پر۔ یا درکھو کہ اس قدر نشانات دیکھ کر بھی جسے کوئی شک و شبہ گزرسکتا ہے تو اسے ڈرنا چاہیے کہ شیطان عدو مبین ساتھ ہے۔ میں جس راہ کی طرف بلاتا ہوں یہی وہ راہ ہے جس پر چل کر غوثیت اور قطبیت ملتی ہے اور اللہ تعالیٰ کے بڑے بڑے انعام ہوتے ہیں۔ جو لوگ مجھے قبول کرتے ہیں ان کی دین و دنیا