ملفوظات (جلد 2) — Page 396
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۹۶ جلد دوم کے وارث ہوں گے اور اس سے حصہ پائیں گے اس آیت کو مَا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِنْ رِجَالِكُمْ وَلَكِنْ رَّسُولَ اللَّهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّنَ (الاحزاب: ۴۱) کے ساتھ ملا کر پڑھو تو حقیقت معلوم ہو جاتی ہے اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی روحانی اولا د بھی نہیں تھی تو پھر معاذ اللہ آپ ابتر ٹھہرتے ہیں جو آپ کے اعداء کے لئے ہے اور اِنَّا اَعْطَيْنَكَ الْكَوْثَرَ ( الكوثر : ۲) سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کو روحانی اولا د کثیر دی گئی ہے پس اگر ہم یہ اعتقاد نہ رکھیں کہ کثرت کے ساتھ آپ کی روحانی اولاد ہوئی ہے تو اس پیشگوئی کے بھی منکر ٹھہریں گے۔ اولاد اس لئے ہر حالت میں ایک سچے مسلمان کو یہ ماننا پڑے گا اور ماننا چاہیے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تاثیرات قدسی ابدالآباد کے لئے ویسی ہی ہیں جیسی تیرہ سو برس پہلے تھیں چنانچہ ان تاثیرات کے ثبوت کے لئے ہی خدا تعالیٰ نے یہ سلسلہ قائم کیا ہے اور اب وہی آیات و برکات ظاہر ہو رہے ہیں جو اس وقت ہو رہے تھے۔ سچی بات یہی ہے کہ اگر اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ (الفاتحة:1) نہ ہوتا تو سالک جو اپنے نفس کی تکمیل چاہتے ہیں مر ہی جاتے ۔ لاہور میں ایک مولوی عبدالحکیم صاحب سے مباحثہ ہوا تھا تو ہم نے اس کو یہی پیش کیا کہ تم خدا تعالیٰ کے مکالمات سے کیوں ناراض ہوتے ہو۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ بھی تو محدث تھے تو اس نے صاف طور پر انکار کیا اور کہا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرضی طور پر کہا تھا حضرت عمر بھی محدث نہ تھے یہ محال ہے کہ آئندہ کسی کو الہام ہو ۔ ان کو اس پر بالکل ایمان نہیں ہے وہ مکالمات کے دروازے ہمیشہ کے لئے بند کئے بیٹھے ہیں اور خدا تعالیٰ کو انہوں نے گونگا خدامان لیا ہے۔ میری سمجھ میں نہیں آتا کہ قرآن شریف میں جو یہ آیا ہے لَهُمُ الْبُشْرَى فِي الْحَيُوةِ الدُّنْيَا (یونس : ۶۵) اس کا ان کے نزدیک کیا مطلب ہے؟ اور جب ملائکہ ایسے مومنوں پر نازل ہوتے ہیں اور ان کو بشارتیں دیتے ہیں تو وہ بشارتیں کس کی طرف سے دیتے ہیں ۔ اس اعتقاد سے پھر قرآن شریف کا ان کو انکار کرنا پڑے گا کیونکہ سارا قرآن شریف اس بات سے بھرا پڑا ہے کہ خدا تعالیٰ کے مکالمہ کا شرف عطا ہوتا ہے اگر یہ شرف ہی کسی کو نہیں ملتا تو پھر قرآن شریف کی تاثیرات کا ثبوت کہاں سے ہوگا ؟