ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 397 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 397

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۹۷ جلد دوم اگر آفتاب دھندلا اور تاریک ہے تو اس کی روشنی پر کوئی کیا فرق کر سکے گا اور کیا یہ کہہ کر فخر کرے گا کہ اس میں روشنی نہیں بلکہ تاریکی ہے؟! آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت قدسی کا فیضان اس طرح پر قرآن شریف کی تاثیرات اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت قدسی کی برکات کے لئے یہ اعتقاد کرنا کہ وہ ایک وقت خاص اور ایک شخص خاص ہی کے لئے تھے آئندہ کے لئے ان کا سلسلہ بند ہو گیا ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سخت بے ادبی اور توہین ہے اور نہ صرف قرآن شریف اور آنحضرت کی بے ادبی بلکہ اللہ تعالیٰ کی پاک ذات پر اعتراض کرنا ہے۔ یا درکھو کہ نبیوں کا وجود اس لئے دنیا میں نہیں آتا کہ وہ محض ریا کاری اور نمود کے طور پر ہواگران لئے ریا سے کوئی فیض جاری نہیں ہوتا اور مخلوق کو روحانی فائدہ نہیں پہنچتا تو پھر یہی ماننا پڑے گا کہ وہ صرف نمائش کے لئے ہیں اور ان کا عدم وجود معاذ اللہ برابر ہے مگر ایسا نہیں وہ دنیا کے لئے بہت سی برکات اور فیوض کے باعث بنتے ہیں اور ان سے ایک خیر جاری ہوتی ہے جس طرح پر آفتاب سے ساری دنیا فائدہ اٹھاتی ہے اور اس کا فائدہ کسی خاص حد تک جا کر بند نہیں ہوتا بلکہ جاری رہتا ہے اسی طرح پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فیوض و برکات کا آفتاب ہمیشہ چمکتا ہے اور سعادت مندوں کو فائدہ پہنچا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرما یا قُلْ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ الله (ال عمران: ۳۲) یعنی ان کو کہہ دو کہ اگر تم چاہتے ہو کہ اللہ تعالیٰ کے محبوب بن جاؤ تو میری اطاعت کرو اللہ تعالیٰ تم سے محبت کرے گا آپ کی سچی اطاعت اور اتباع انسان کو اللہ تعالیٰ کا محبوب بنا دیتی ہے اور گناہوں کی بخشش کا ذریعہ ہوتی ہے۔ پس جب کہ آپ کی اتباع کامل اللہ تعالیٰ کا محبوب بنا دیتی ہے پھر کوئی وجہ نہیں ہو سکتی کہ ایک محبوب اپنے محب سے کلام نہ کرے۔ اگر یہ مانا جاوے کہ اللہ تعالیٰ ایک شخص کو باوجود محبوب بنانے کے پھر بھی اس سے کلام نہیں کرتا تو یہ محبوب معاذ اللہ آبگم ہے۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ باطل معبودوں کے لئے الحکم جلدے نمبر ۱۹ مورخہ ۲۴ رمئی ۱۹۰۳ء صفحہ ۲،۱