ملفوظات (جلد 2) — Page 395
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۹۵ جلد دوم انْعَمْتَ عَلَيْهِمُ (الفاتحة : ۷،۶ ) میں آج کل کے مولویوں کا رڈ ہے جو یہ مانتے ہیں کہ سب روحانی فیوض اور برکات ختم ہو گئے ہیں اور کسی کی محنت اور مجاہدہ کوئی مفید نتیجہ پیدا نہیں کر سکتا اور ان برکات اور ثمرات سے حصہ نہیں ملتا جو پہلے منعم علیہ گروہ کو ملتا ہے۔ یہ لوگ قرآن شریف کے فیوض کو اب گویا بے اثر مانتے ہیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تاثیرات قدسی کے قائل نہیں کیونکہ اگر اب ایک بھی آدمی اس قسم کا نہیں ہو سکتا جو منعم علیہ گروہ کے رنگ میں رنگین ہو سکے تو پھر اس دعا کے مانگنے سے فائدہ کیا ہوا؟ مگر نہیں یہ ان لوگوں کی غلطی اور سخت غلطی ہے جو ایسا یقین کر بیٹھے ہیں خدا تعالیٰ کے فیوض اور برکات کا دروازہ اب بھی اسی طرح کھلا ہے لیکن وہ سارے فیوض اور برکات محض آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع سے ملتے ہیں اور اگر کوئی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کے بغیر یہ دعویٰ کرے کہ وہ روحانی برکات اور سماوی انوار سے حصہ پاتا ہے تو ایسا شخص جھوٹا اور کذاب ہے۔ ۔ سید عبد القادر جیلانی رضی اللہ عنہ کی چند عبارتیں ایسی تھیں جو قرآن کے رنگ کی تھیں مولوی عبدالحی صاحب جنہوں نے اتباع سنت کیا ہے اور مجھے ان سے بہت محبت ہے ان کا مذہب تو حید کا تھا۔ وہ بدعات اور محدثات سے جدا رہتے تھے۔ وہ ان عبارتوں کے متعلق کہتے ہیں کہ اگر یہ قرآن کے موافق ہیں تو اس کا کیا جواب دیں؟ تو فرماتے ہیں کہ ولیوں کے کرامات اور خوارق انبیاء علیہم السلام کے معجزات ہی کی طرح ہوتے ہیں۔ اس لئے یہ قرآن ہی کا معجزہ ہے اصل یہی ہے کہ کامل اتباع سنت کے بعد جو خوارق ملتے ہیں وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن کریم ہی کے خوارق ہیں اور اگر اب ان خوارق اور معجزات کا دروازہ بند ہو گیا ہے تو پھر معاذ اللہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بڑی بھاری ہتک ہو گی ۔ یہ جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو فرما یا اِنَّا اَعْطَيْنَكَ الْكَوْثَرَ ( الكوثر : ۲) یہ اس وقت کی بات ہے کہ ایک کافر نے کہا کہ آپ کی اولا د نہیں ہے معلوم نہیں اس نے ابتر کا لفظ بولا تھا جو اللہ تعالیٰ نے فرمایا إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْأَبْتَرُ ( الكوثر : ۴) تیرا دشمن ہی بے اولا در ہے گا۔ روحانی طور پر جو لوگ آئیں گے وہ آپ ہی کی اولاد سمجھے جائیں گے اور وہ آپ کے علوم و برکات