ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 394 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 394

ملفوظات حضرت مسیح موعود صفت رحمانیت ۳۹۴ جلد دوم رحمانیت اور رحیمیت میں یہی فرق ہے کہ رحمانیت دعا کو نہیں چاہتی مگر رحیمیت دعا کو چاہتی ہے اور یہ انسان کے لئے ایک خلعت خاصہ ہے اور اگر انسان انسان ہو کر اس صفت سے فائدہ نہ اٹھا وے تو گو یا ایسا انسان حیوانات بلکہ جمادات کے برابر ہے۔ یہ صفت بھی تمام مذاہب باطلہ کے رد کے لئے کافی ہے کیونکہ بعض مذہب اباحت کی طرف مائل ہیں اور وہ مانتے ہیں کہ دنیا میں ترقیات نہیں ہوتی ہیں آریہ جبکہ اس صفت کے فیضان سے منکر ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کی صفات کاملہ کا کب قائل ہو سکتا ہے ، سید احمد خان مرحوم نے بھی دعا کا انکار کیا ہے اور اس طرح پر وہ فیض جو دعا کے ذریعہ انسان کو ملتا ہے اس سے محروم رکھا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ کی چوتھی صفت ملِكِ يَوْمِ الدِّينِ (الفاتحة:۴) صفت مالکیت يَوْمِ الدین بیان کی ہے۔ جولوگ قیامت کے منکر ہیں اس میں ان کا رڈ موجود ہے اس کی تفصیل قرآن میں بہت جگہ آئی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی اس صفت اور رحیمیت میں فرق یہ ہے کہ رحیمیت میں دعا اور عبادت کے ذریعہ اور کامیابی کی راہ پیدا ہوتی اور ایک حق ہوتا ہے مگر مالکیت يَوْمِ الدِّينِ وہ حق اور ثمرہ عطا کرتی ہے۔ اور فقرہ إِيَّاكَ نَعْبُدُ (الفاتحة : (۵) تمام باطل معبودوں کی تردید کرتا ہے اور مشرکین کا رڈ اس میں موجود ہے کیونکہ پہلے اللہ تعالیٰ کی صفات کا ملہ کو بیان فرمایا ہے اس سے مخاطب کر کے کہا گیا ہے کہ إِيَّاكَ نَعْبُدُ یعنی صفات کا ملہ والے خدا جو رب العالمین ، رحمن ، رحیم ، مالک یوم الدین ہے تیری ہی عبادت ہم کرتے ہیں۔ یہ ہر چہار صفات جو ائم الصفات کہلاتی ہیں معبودان باطلہ میں کہاں پائی جاتی ہیں جو لوگ پتھروں یا درختوں یا حیوانات اور چیزوں کی پرستش کرتے ہیں ان میں ان صفات کو ثابت نہیں کر سکتے ۔ اور اسی طرح إِيَّاكَ خدا تعالیٰ کے فیوض اور برکات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے میں نَسْتَعِينُ میں ان لوگوں کا رڈ ہے جو دعا اور اس کی قبولیت کے منکر ہیں اور اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ