ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 393 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 393

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۹۳ جلد دوم ہی بتاتا ہے اور اس طرح پر اسی ایک لفظ کے ساتھ ان تمام غلط اور بے ہودہ اعتقادات کی بیخ کنی کرتا ہے جو اس صفت کے خلاف دوسرے مذہب والوں نے خود بنا لئے ہیں ۔ پھر اللہ تعالیٰ کی صفت الرحمن بیان کی ہے اور اس صفت کا تقاضا یہ ہے کہ وہ انسان کی فطری خواہشوں کو اس کی دعا یا التجا کے بغیر اور بدوں کسی عمل عامل کے عطا کرتا ہے مثلاً جب انسان پیدا ہوتا ہے تو اس کے قیام و بقا کے لئے جن چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے وہ پہلے سے موجود ہوتی ہیں۔ پیدا پیچھے ہوتا ہے لیکن ماں کی چھاتیوں میں دودھ پہلے آجاتا ہے۔ آسمان ، زمین،سورج ، چاند، ستارے، پانی، ہوا، وغیرہ یہ تمام اشیاء جو اس نے انسان کے لئے بنائی ہیں یہ اس کی صفت رحمانیت ہی کے تقاضے ہیں لیکن دوسرے مذہب والے یہ نہیں مانتے کہ وہ بلا مبادلہ بھی فضل کر سکتا ہے آر یہ تو سرے سے اس مسئلہ کو مانتے ہی نہیں جب کہ رب العالمین کے معنے بیان کرتے وقت بتایا ہے۔ عیسائیوں نے بھی کفارہ کا مسئلہ درست کرنے کے لئے یہی اعتقاد کر رکھا ہے کہ وہ بلا مبادلہ رحم نہیں کر سکتا مگر آریوں سے تو یہ پوچھنا چاہیے کہ یہ زمین ، آسمان، چاند ، سورج، ہوا ، پانی جو موجود ہے کن گذشتہ کرموں کا پھل ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ کی صفت رَحِیم بیان کی ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کی وہ صفت ہے جس صفت رحیمیت کا تقاضا ہے کہ محنت اور کوشش کو ضائع نہیں کرتا بلکہ ان پر ثمرات اور نتائج مترتب کرتا ہے اگر انسان کو یہ یقین ہی نہ ہو کہ اس کی محنت اور کوشش کوئی پھل لاوے گی تو پھر وہ سست اور نکما ہو جاوے گا ۔ یہ صفت انسان کی امیدوں کو وسیع کرتی اور نیکیوں کے کرنے کی طرف جوش سے لے جاتی ہے اور یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ رحیم قرآن شریف کی اصطلاح میں اللہ تعالیٰ اس وقت کہلاتا ہے جب کہ لوگوں کی دعا ، تضرع ، اور اعمال صالحہ کو قبول فرما کر آفات اور بلاؤں اور تضیع اعمال سے سے ان کو محفوظ رکھتا ہے رحمانیت تو بالکل عام تھی لیکن رحیمیت خاص انسانوں سے تعلق رکھتی ہے اور دوسری مخلوق میں دعا، تضرع اور اعمال صالحہ کا ملکہ اور قوت نہیں یہ انسان ہی کو ملا ہے۔ الحکم جلدے نمبر ۱۷ مورخہ ۱۰ رمئی ۱۹۰۳ ء صفحه ۱ تا ۳