ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 304 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 304

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۰۴ جلد دوم ہے۔ مرشد اور مرشد بھی وہ جو خدا کی طرف سے ہدایت کے لئے مامور ہوا ہو اس کا تعلق روح سے ہوتا ہے جس کو فنا نہیں ہے۔ پھر جب وہ روح کی تربیت کرتا ہے اور اس کی روحانی تولید کا باعث ہوتا ہے تو وہ اگر باپ نہ کہلائے گا تو کیا کہلائے گا؟ اصل یہی ہے کہ یہ لوگ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی باتوں پر بھی کچھ توجہ نہیں کرتے ورنہ اگر ان کو سوچتے اور قرآن کو پڑھتے تو یہ منکرین میں نہ رہتے۔ پھر اعتراض کیا گیا کہ تصویر پر لوگ کہتے ہیں کہ یہ تصور شیخ کی غرض سے فوٹو بنوانے کی غرض بنائی گئی ہے حضرت اقدس علیہ الصلواۃ والسلام نے فرمایا۔ ة یہ تو دوسرے کی نیت پر حملہ ہے۔ میں نے بہت مرتبہ بیان کیا ہے کہ تصویر سے ہماری غرض کیا تھی۔ بات یہ ہے کہ چونکہ ہم کو بلاد یورپ خصوصاً لنڈن میں تبلیغ کرنی منظور تھی لیکن چونکہ یہ لوگ کسی دعوت یا تبلیغ کی طرف توجہ نہیں کرتے جب تک داعی کے حالات سے واقف نہ ہوں اور اس کے لیے اُن کے ہاں علم تصویر میں بڑی بھاری ترقی کی گئی ہے۔ وہ کسی شخص کی تصویر اور اس کے خط و خال کو دیکھ کر رائے قائم کر لیتے ہیں کہ اس میں راست بازی ، قوت قدسی کہاں تک ہے؟ اور ایسا ہی بہت سے امور کے متعلق انہیں اپنی رائے قائم کرنے کا موقع مل جاتا ہے۔ پس اصل غرض اور نیت ہماری اس سے ہی تھی جس کو ان لوگوں نے جو خواہ مخواہ ہر بات میں مخالفت کرنا چاہتے ہیں اس کو بڑے بڑے پیرایوں میں پیش کیا اور دنیا کو بہکایا۔ میں کہتا ہوں کہ ہماری نیت تو تصویر سے صرف اتنی ہی تھی۔ اگر ی نفس تصویر کو ہی برا سمجھتے ہیں تو پھر کوئی سکہ اپنے پاس نہ رکھیں بلکہ بہتر ہے کہ آنکھیں بھی نکلوادیں کیونکہ ان میں بھی اشیاء کا ایک انعکاس ہی ہوتا ہے۔ یہ نادان اتنا نہیں جانتے کہ افعال کی تہ میں نیت کا بھی دخل ہوتا ہے الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ پڑھتے ہیں مگر سمجھتے نہیں ۔ بھلا اگر کوئی شخص محض ریا کاری کے لئے نماز پڑھے تو اس کو یہ کوئی مستحسن امر قرار دیں گے؟ سب جانتے ہیں کہ ایسی نماز کا فائدہ کچھ نہیں بلکہ وبالِ جان ہے تو کیا نماز بری تھی ؟ نہیں اس کے بد استعمال نے اس کے نتیجہ کو بُرا پیدا کیا۔ اسی طرح پر تصویر سے ہماری غرض تو اسلام کی دعوت میں مدد لینا تھا۔ جو اہل یورپ کے مذاق پر ہو سکتی تھی۔ اس کو تصویر شیخ بنانا اور کچھ سے کچھ کہنا