ملفوظات (جلد 2) — Page 305
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۰۵ جلد دوم افترا ہے۔ جو مسلمان ہیں اُن کو اس پر غصہ نہیں آنا چاہیے تھا۔ جو کچھ خدا اور رسول نے فرمایا ہے وہ حق ہے۔ اگر مشائخ کا قول خدا اور رسول کے فرمودہ کے موافق نہیں تو ع کالائے بد بریش خاوند تصور شیخ کی بابت پوچھو تو اس کا کوئی پتہ نہیں ۔ اصل یہ ہے کہ صالحین اور فانین فی اللہ کی محبت ایک عمدہ شے ہے لیکن حفظ مراتب ضروری ہے۔ ع گر حفظ مراتب نہ گنی زندیقی پس خدا کو خدا کی جگہ، رسول کو رسول کی جگہ سمجھو اور خدا کے کلام کو دستور العمل ٹھہرا لو۔ اس سے زیادہ چونکہ قرآن شریف میں اور کچھ نہیں کہ كُونُوا مَعَ الصُّدِقِينَ (التوبة : ۱۱۹) پس صادقوں اور فانی فی اللہ کی صحبت تو ضروری ہے اور یہ کہیں نہ کہا گیا کہ تم اُسے ہی سب کچھ مجھو اور یا قرآن شریف میں یہ حکم ہے ان كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللهُ ( ال عمران: ۳۲) اس میں یہ نہیں کہا گیا کہ مجھے خدا سمجھ لو بلکہ یہ فرمایا کہ اگر خدا کے محبوب بننا چاہتے ہو تو اس کی ایک ہی راہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کرو۔ اتباع کا حکم تو دیا ہے مگر تصور شیخ کا حکم قرآن میں پایا نہیں جاتا۔ سوال ۔ جو تصور شیخ کرتے ہیں وہ کہتے ہیں ہم شیخ کو خدا نہیں سمجھتے ۔ تصور شیخ جواب۔ مانا کہ وہ ایسا کہتے ہیں مگر بت پرستی تو شروع ہی تصور سے ہوتی ہے۔ بت پرست بھی بڑھتے بڑھتے ہی اس درجہ تک پہنچا ہے۔ پہلے تصور ہی ہوگا۔ پھر یہ سمجھ لیا کہ تصور قائم رکھنے کے لئے بہتر ہے تصویر ہی بنالیں اور پھر اس کو ترقی دیتے دیتے پتھر اور دھاتوں کے بت بنانے شروع کر دیئے اور اُن کو تصویر کا قائم مقام بنالیا۔ آخر یہاں تک ترقی کی کہ اُن کی روحانیت کو اور وسیع کر کے ان کو خدا ہی مان لیا۔ اب نرے پتھر ہی رکھ لیتے ہیں اور اقرار کرتے کہ منتر کے ساتھ اُن کو درست کر لیتے ہیں اور پرمیشر کا حلول ان پتھروں میں ہو جاتا ہے۔ اس منتر کا نام انہوں نے آوا ہن رکھا ہوا ہے۔ میں نے ایک مرتبہ دیکھا کہ میرے ہاتھ میں ایک کاغذ ہے۔ میں نے ایک شخص کو دیا کہ اسے پڑھو تو اس نے کہا کہ اس پر آواہن لکھا ہوا ہے۔ مجھے اس سے کراہت آئی۔ میں