ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 303 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 303

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۴ ستمبر ۱۹۰۱ء (بعد مغرب) ۳۰۳ جلد دوم ام المؤمنین کے لفظ کا استعمال ام المومنین کا لفظ جوس موجود کی یہی کی نسبت استعمال کیا جاتا ہے اس پر بعض لوگ اعتراض کرتے ہیں۔ حضرت اقدس علیہ الصلوۃ والسلام نے سن کر فرمایا۔ اعتراض کرنے والے بہت ہی کم غور کرتے اور اس قسم کے اعتراض صاف بتاتے ہیں کہ وہ محض کینہ اور حسد کی بنا پر کیے جاتے ہیں ورنہ نبیوں یا ان کے اخلال کی بیویاں اگر امہات المؤمنین نہیں ہوتی ہیں تو کیا ہوتی ہیں؟ خدا تعالیٰ کی شدت اور قانونِ قدرت کا اس تعامل سے بھی پتہ لگتا ہے کہ کبھی کسی نبی کی بیوی سے کسی نے شادی نہیں کی ۔ ہم کہتے ہیں کہ ان لوگوں سے جو اعتراض کرتے ہیں کہ ام المؤمنین کیوں کہتے ہو؟ پوچھنا چاہیے کہ تم بتاؤ جو مسیح موعود تمہارے ذہن میں ہے اور جسے تم سمجھتے ہو کہ وہ آکر نکاح بھی کرے گا ۔ کیا اس کی بیوی کو تم اُم المومنین کہو گے یا نہیں ؟ مسلم میں تو مسیح موعود کو نبی ہی کہا گیا اور قرآن شریف میں انبیاء علیہم السلام کی بیویوں کو مومنوں کی مائیں قرار دیا ہے۔ افسوس تو یہ ہے کہ یہ لوگ میری مخالفت اور بغض میں ایسا تجاوز کرتے ہیں کہ منہ سے بات کرتے ہوئے اتنا بھی نہیں سوچتے کہ اس کا اثر اور نتیجہ کیا ہوگا ؟ جن لوگوں نے مسیح موعود کو شناخت کر لیا ہے اور اس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمودہ کے موافق اس کی شان کو مان لیا ہے ان کا ایمان تو خود بخو دانہیں اس بات کے ماننے پر مجبور کرے گا اور جو آج اعتراض کرتے ہیں یہ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں بھی ہوتے تب بھی اعتراض کرنے سے باز نہ آتے۔ یہ بات خوب یا درکھنی چاہیے کہ خدا کا مامور جو ہدایت کرتا ہے اور روحانی اصلاح کا موجب ہوتا ہے وہ در حقیقت باپ سے بھی بڑھ کر ہوتا ہے۔ افلاطون حکیم لکھتا ہے کہ باپ تو روح کو آسمان سے زمین پر لاتا ہے مگر اُستاد زمین پر سے پھر آسمان پر پہنچاتا ہے۔ باپ کا تعلق تو صرف فانی جسم کے ہی ساتھ ہوتا