ملفوظات (جلد 2) — Page 292
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۹۲ جلد دوم زکوۃ کے اثر سے بچا لیتے تھے۔ اس قسم کے بہت سے افترا کرتے ہیں۔ انہوں نے بجز خشک لفاظی کے اور کوئی فائدہ اسلام کو نہیں پہنچایا۔ اپنے طریق عمل سے اسلام کو مردہ مذہب ثابت کرنا چاہا ہے جب کہ یہ کہہ دیا کہ اب کوئی ایسا مرد نہیں ہے جس کے ساتھ زندہ نشانات اسلام کی تائید میں ہوں ۔ افسوس ! ان لوگوں کی عقلوں کو کیا ہوا ۔ یہ کیوں نہیں سمجھتے؟ کیا قرآن میں جو اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمُ ( الفاتحة : ٧،٦ ) کہا گیا تھا یہ یو نہی ایک بے معنی اور بے مطلب بات تھی اور نرا ایک قصہ ہی قصہ ہے؟ کیا وہ انعام کچھ نہ تھا۔ خدا نے نرا دھوکہ ہی دیا ہے؟ اور وہ اپنے سچے طالبوں اور صادقوں کو بد نصیب ہی رکھنا چاہتا ہے؟ کس قدر ظلم ہے اگر یہ خدا کی نسبت قرار دیا جاوے کہ وہ نری لفاظی ہی سے کام لیتا ہے۔ حقیقت یہ نہیں ہے۔ یہ ان لوگوں کی اپنی خیالی باتیں ہیں ۔ قرآن شریف در حقیقت انسان کو ان مراتب اور اعلیٰ مدارج پر پہنچانا چاہتا ہے جو اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ کے مصداق لوگوں کو دیئے گئے تھے اور کوئی زمانہ ایسا نہیں ہوتا جب کہ خدا تعالیٰ کے کلام کے زندہ ثبوت موجود نہ ہوں ۔ ہمارا یہ مذہب ہرگز نہیں کہ آریوں کی طرح کوئی خدا کا پریمی اور بھگت کتنی ہی دعائیں کرے اور رورو کر اپنی جان کھوئے اور اس کا کوئی نتیجہ نہ ہو۔ اسلام خشک مذہب نہیں ہے۔ اسلام ہمیشہ ایک زندہ مذہب ہے اور اس کے نشانات اس کے ساتھ ہیں۔ پیچھے رہے ہوئے نہیں ہیں ۔ - غرض یہ بھی ایک بدنصیب گروہ ہے۔ یہ لوگ اپنا اصل مذہب نہیں بتاتے ہیں۔ ان کی خبر مشکل سے ہوتی ہے۔ احناف رہے حنفی ، ان میں بد قسمتی سے اقوالِ مردودہ اور بدعات نے دخل پالیا ہے۔ حضرت امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ تو اعلیٰ درجہ کے مشتقی تھے مگر اُن کے پیروؤں میں جب روحانیت نہ رہی تو انہوں نے اور بدعتوں کو داخل کر لیا اور تقلید میں انہوں نے یہاں تک غلو کیا کہ ان لوگوں کے اقوال کو جن کی عصمت کا قرآن دعوی نہیں کرتا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال پر بھی فضیلت دے دی اور اپنے اغراض اور مقاصد کو مد نظر رکھ کر امام صاحب کے اقوال کی