ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 293 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 293

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۹۳ جلد دوم جس طرح چاہا تاویل کر لی ۔ لدھیانہ میں میں ایک دفعہ تھا تو نوابوں کے خاندان میں سے ایک چاہا ۔ میں شخص میرے پاس آیا اور باتوں ہی باتوں میں انہوں نے کہا کہ میں پکا حنفی ہوں اور یہ بھی کہا کہ میرے چچا صاحب کو امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ سے بڑی حسن عقیدت تھی ۔ یہاں تک کہ جب انہوں نے مَا لَا بُدَّ مِنْهُ میں امام صاحب کا یہ قول دیکھا کہ صرف جو اور انگور اور دو اور یعنی چار قسم کی شراب حرام ہے تو انہوں نے ولایت کی شرابیں منگوا کر اسی ہزار روپیہ کی شراب پی تا کہ امام صاحب کی سچی پیروی ہو جاوے۔ اسْتَغْفِرُ اللَّهَ ثُمَّ اسْتَغْفِرُ اللهَ - غرض اس قسم کی تاویلیں کر لیتے ہیں۔ عام طور پر شکایت کی جاتی ہے کہ جس قسم کا فتویٰ کوئی چاہے ان سے لے لے۔ حلالہ کا مسئلہ بھی انہوں نے ہی نکالا ہے۔ اگر کوئی عورت کو طلاق دے دے تو پھر جائز طور پر رکھنے کے لئے ضروری ہے کہ وہ کسی دوسرے سے نکاح کرے اور وہ پھر اس کو طلاق دے حالانکہ قرآن شریف میں کہیں اس کا پتہ نہیں ملتا اور احادیث میں حلالہ کرنے والے پر لعنت آئی ہے۔ شافعی پھر ایک اورفرقہ شافعی مذہب والوں کا ہے وہ تو دشوں کی سی زندگی بسر کرتے ہیں ہیں۔ ان کے دو ہاں ایک مقولہ ہے شافعی سب کچھ معافی یعنی نہ حلت و حرمت کی ضرورت ہے نہ کچھ اور ۔ چنانچہ ہمارے ملک میں خانہ بدوش لوگ جو پھرا کرتے ہیں یہ اپنے آپ کو شافعی کہتے ہیں۔ ان کے اطوار اور چال چلن کو دیکھ لو۔ امرتسر میں ایک موحد رنڈی کی مسجد میں نماز پڑھایا کرتا تھا۔ اس نے میرے پاس ذکر کیا کہ وہ ایک مرتبہ بمبئی چلا گیا اور اتفاق سے شافعیوں کی مسجد میں چلا گیا۔ صبح کی نماز کا وقت تھا۔ اس سے جب دریافت کیا تو اس نے کہہ دیا کہ میں شافعی ہوں اور جب انہوں نے اس کو نماز کے لئے امام بنایا اور اس نے شافعی مذہب کے موافق صبح کی نماز میں قنوت نہ پڑھی تو وہ لوگ بڑے ہی برافروختہ ہوئے ۔ آخر بمشکل وہاں سے بچ کر نکلا۔ الغرض مذہب اسلام میں اندرونی طور پر ایسے ایسے بہت سے فساد اور فتنے ہیں جن کی اصلاح کی ضرورت ہے اور بیرونی فسادوں کو آدمی دیکھے تو اور بھی حیران ہو جاتا ہے۔ ایک پادریوں کے ہی فتنہ کو دیکھو تو گھبرا جاؤ مختصر یہ کہ ان سارے فسادوں