ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 291 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 291

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۹۱ جلد دوم اس کا نام تھا اُس نے صاف کہہ دیا کہ حضرت عمر بھی محدث نہ تھے اور حدیث کے معنی یہ کیے کہ اگر محدث ہوتا تو عمر ہوتا۔ یہ ترجمہ کر کے اس نے خدا پر الزام لگایا کہ اس نے اس اُمت کے گویا آنسو پونچھ دیئے اور کچھ نہیں ۔ مگر میں پوچھتا ہوں کہ ان کو اتنی سمجھ نہیں کہ کیا اس کرتوت پر وہ اس اُمت کو خیر الامم قرار دیتے ہیں جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ایک شخص بھی ایسا نہ ہوا جس کو خدا تعالیٰ سے کلام کرنے کا شرف ملا ہو اور جو اسلام کی صداقت کے لئے ایک زندہ نمونہ ٹھہرتا۔ ان لوگوں نے عملی طور پر گو یا مان لیا ہے کہ اب نہ کسی کا خدا سے تعلق ہے نہ مکالمہ الہیہ کا شرف کسی کو حاصل ہے دعاؤں کی قبولیت کا کوئی نشان موجود نہیں ہے۔ پھر بنی اسرائیل کی تو عورتوں تک کو بھی خدا سے ہم کلام ہونے کا شرف ملتا تھا کیا اسلام میں کوئی مرد بنی اسرائیل کی عورتوں جیسا بھی نہیں ہے؟ اے اسلام کے نادان دوستو ! ذرا غور تو کرو کہ اس سے اسلام پر کیسا حرف آتا ہے کیا خدا نے اسی واسطے اسلام کو تمہارے لیے پسند کیا تھا اور اسی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبیین قرار دیا تھا کہ آئندہ قیامت تک کوئی نشان ان کی صداقت پر قائم نہ ہوتا اور زندگی کے نشان مٹائے جاتے؟ مجھے بہت ہی افسوس ہوتا ہے جب ان لوگوں کے عقائد پر نظر کرتا ہوں ان میں بجز الفاظ کے اور کچھ نظر نہیں آتا اور جو کچھ انہوں نے مان رکھا ہے اس سے مخالفوں کو بڑے بڑے اعتراض کرنے کا موقع ملا ہے چنانچہ مسیح کے متعلق ہی جو کچھ ان کے عقائد ہیں وہ پوشیدہ نہیں۔ یہ لوگ مانتے ہیں کہ مسیح مردے زندہ کرتا تھا اور چڑیاں بھی بنایا کرتا تھا اور آج تک وہ آسمان پر بغیر کسی قسم کے زمانہ کے اثر ہونے کے بیٹھا ہوا ہے تو بتاؤ کہ اس کے خدا بنانے میں انہوں نے کیا باقی رکھا۔ میں نے ایک موحد سے پوچھا کہ تم جو کہتے ہو کہ مسیح نے بھی کچھ جانور بنائے تھے اور وہ خدا کے بنائے ہوئے پرندوں میں مل جل گئے ۔ اب ہمیں کیوں کر معلوم ہو کہ یہ جانور مسیح کا بنایا ہوا ہے۔ اس نے کہا کہ کچھ گڑ بڑ ہو گئی ہے۔ غرض اس قسم کے ان لوگوں کے عقائد ہیں ۔ ہاں چالا کی سے آئمہ اربعہ کو بُرا کہہ لیتے ہیں مثلاً ایک امام کی بابت وہ الزام لگاتے ہیں کہ وہ بڑے مالدار تھے اور زکوۃ نہیں دیتے تھے۔ آخر سال پر سارا مال بیوی کو دے دیتے تھے اور پھر اپنی طرف منتقل کر لیتے تھے اس طرح پر گویا اس کو