ملفوظات (جلد 2) — Page 290
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۹۰ جلد دوم اور دوسرا فیلسوف بنتا ہے۔ یہ خدا کا دشمن اور منکر ہے اور اس کو خدا سے محبت نہیں کیونکہ جیسے فلسفی مردہ کو چیر تو سکتا ہے لیکن اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ وہ مردہ کو کھا بھی لے اسی طرح پر وحدت وجود کا قائل خدا تو بنتا ہے لیکن اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ اس کو خدا سے محبت بھی ہے۔ جس کسی نے بندریا کتے کی تشریح دیکھ لی ہے اس کے لئے کب لازم آتا ہے کہ اس سے تعلق بھی ہو۔ یہ ایسے ہی مدعی ہیں۔ فیلسوف بنے ہوئے ہیں مگر انہوں نے ثابت نہیں کیا کہ خدا سے اُن کا کوئی تعلق بھی ہے۔ اکابر کا وہ طبقہ جنہوں نے آگے قدم بڑھایا ہے وہ مقبول بھی ہو گئے ہیں۔ اس لیے کہ اُن پر خدا تعالیٰ کی محبت اور عشق غالب آگیا تھا۔ وہ قرآن شریف پر ایمان لائے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کے دریا میں تیرتے تھے۔ اسلام ان کا مذہب تھا۔ اس لیے اُن سے خدا تعالیٰ کے فضل سے وہ کرشمے اور عجائبات ظاہر ہوئے ۔ حقیقت یہی ہے کہ جب بندہ اپنے خالق کے ساتھ محبت و عشق میں ایک شدید تعلق پیدا کر لیتا ہے اس وقت اسے خدا تعالی اپنی صفات سے ایک حظ عطا کرتا ہے کیونکہ خدا نے انسان کو اپنا خلیفہ بنایا ہے۔ غرض یہ غلطیاں تو ان لوگوں کی ہیں جو خدا بنے ہیں اور انہوں نے اسلام کو سخت گزند پہنچایا ہے۔ مخالفوں نے اُن کے اقوال کو لے کر اسلام پر اعتراض کیے ہیں ۔ پھر دوسرا فتنہ اُن لوگوں کا ہے جو اپنے آپ کو موحد کہتے ہیں۔ انہوں نے الفاظ پرستی ایک اور فتنہ کے سوا کچھ حاصل نہیں کیا۔ لاہور میں ایک شخص سے بحث ہوئی ۔ عبدالحکیم ہے سوا سے ہوئی۔ لے نوٹ ۔ جب اس مولوی عبدالحکیم سے فروری ۱۸۹۲ء میں بمقام لاہور حضرت اقدس امام علیہ السلام کی بحث ہوئی تھی۔ تو بفضلہ تعالیٰی خاکسارایڈیٹر الحکم بھی اس بحث کے موقع پر شامل تھا۔ یہ شخص آخر مباحثہ کے پرچے لے کر چل دیا اور پھر بے حیائی سے ۱۹۰۰ء میں بمقام قادیان آیا۔ ہر چند اس کو سمجھایا گیا مگر راہ پر نہ آیا اور بیہودہ بکواس کرنے لگا۔ جب اس کو لاہور والا مباحثہ یاد دلایا اور ان کا غذات کو لے کر بھاگ جانے کا الزام اس کو دیا گیا تو پھر وعدہ کیا کہ میں اب وہ کاغذ طبع ہونے کے واسطے بھیج دوں گا۔ ایک مہینہ کے اندراندر ایڈیٹر الحکم کے پاس کاغذ مباحثہ پہنچ جائیں گے۔ اگر نہ بھیجوں تو مجھے کا ذب سمجھا جاوے مگر اب ایک مہینہ چھوڑ ایک سال ختم ہونے کو آیا ہے آج تک اس نے وہ کاغذ نہ بھیجے۔ کاش اگر وہ کمبخت وہ پرچے بھیج دیتا تو حضرت اقدس کی تقریروں کو شائع کر سکتے ۔ بہر حال یہ اس عبدالحکیم کا ذکر ہے۔ (ایڈیٹر )