ملفوظات (جلد 2) — Page 23
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۳ جلد دوم موجود ہیں۔ میرا اپنی بیوی کے ساتھ فلاں راز ہے۔ مسیح کو تو میں ایسا سمجھتا ہوں ۔ غرض وہ شور مچا کر اپنی صفائی اور بریت کرتا حالانکہ کسی تاریخ صحیح سے یہ بات ثابت نہیں ہوتی کہ جو شخص صلیب پر لڑکا یا گیا تھا اس نے شور مچا کر رہائی حاصل کر لی تھی ۔ اور اگر وہ مسیح کا دوست اور حواری ہی تھا۔ پھر صاف بات ہے کہ وہ مومن باللہ تھا اور وہ صلیب پر مرنے کی وجہ سے بلا وجہ ملعون ہوا اور خدا نے اس کو ملعون بنایا۔ رہی یہ بات کہ مصلوب ملعون کیوں ہوتا ہے؟ یہ عام بات ہے کہ جو چیز کسی فرقہ سے تعلق رکھتی ہے وہ اس کے ساتھ منسوب ہو جاتی ہے۔ سولی کو مجرموں کے ساتھ تعلق ہے جو گو یا کاٹ دینے کے قابل ہوتے ہیں اور خدا کا تعلق مجرم کے ساتھ کبھی نہیں ہوتا۔ یہی لعنت ہے۔ اس وجہ سے وہ لعنتی ہوتا ہے۔ اس لیے یہ کبھی نہیں ہو سکتا کہ ایک مومن نا کردہ گناہ ملعون قرار دیا جاوے۔ پس یہ دونوں باتیں غلط ہیں ۔ اصل وہی ہے جو اللہ تعالیٰ نے ہم پر ظاہر کی کہ مسیح کی حالت غشی وغیرہ سے ایسی ہو گئی جیسے مردہ ہوتے ہیں ۔ ۱۰۔ انبیاء خبیث امراض سے محفوظ رکھے جاتے ہیں انبیاء علیہ السلا اور اللہ تعالی کے مامور خبیث اور ذلیل ہے۔ یہ بیماریوں سے محفوظ رکھے جاتے ہیں مثلاً جیسے آتشک ہو، جذام ہو یا اور کوئی ایسی ہی ذلیل مرض ۔ یہ بیماریاں خبیث لوگوں ہی کو ہوتی ہیں ۔ الْخَبِيثُتُ لِلْخَبِيثِينَ (النور : ۲۷) اس میں عام لفظ رکھا ہے اور نکات بھی عام ہیں۔ اس لئے ہر خبیث مرض سے اپنے ماموروں اور برگزیدوں کو بچا لیتا یہ کبھی نہیں ہوتا کہ مومن پر جھوٹا الزام لگا یا جاوے اور وہ بری نہ کیا جاوے خصوصاً مصلح اور مامور ۔ اور یہی وجہ ہے کہ مصلح یا مامور حسب نسب کے لحاظ سے بھی ایک اعلی درجہ رکھتا ہے اگر چہ ہمارا مذہب یہی ہے اور یہی سچی بات ہے کہ خدا تعالیٰ کے نزدیک تکریم اور تعظیم کا معیار صرف تقویٰ ہی ہے اور ہم یہ مانتے ہیں کہ ایک چوہڑا بھی مسلمان ہو کر اعلیٰ درجہ کا قرب اور درجہ اللہ تعالیٰ کے حضور حاصل کر سکتا ہے اور وہاں کسی خاص قوم یا ذات کے لئے فضل مخصوص نہیں