ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 24 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 24

ملفوظات حضرت مسیح موعود الد جلد دوم ہے مگر سنت اللہ اسی طرح پر جاری ہے کہ وہ جس کو مامور اور مصلح مقرر فرماتا ہے اس کو ایک اعلیٰ خاندان میں ہونے کا شرف دیتا ہے اور یہ اس لئے کہ لوگوں پر اس کا اثر پڑے اور کوئی طعنہ نہ دے سکے۔ ۱۵ نومبر ۱۹۰۰ء نبی اور ولی کی عبادات میں فرق خیانت اور ریا کاری دو ایسی چیزیں ہیں کہ ان کی رفتار بہت ہی سست اور دھیمی ہے۔ اگر کسی زاہد کو فاسق کہہ دیا جاوے تو اسے ایک لذت آجائے گی اس واسطے کہ وہ راز جو اس کے اور اس کے محبوب ومولی کے درمیان ہے وہ مخفی معلوم دے گا ۔ صوفی کہتے ہیں کہ خالص مومن جبکہ عین عبادت میں مصروف ہو اور وہ اپنے آپ کو پوشیدہ کر کے کسی حجرہ یا کوٹھڑی کے دروازے بند کر کے بیٹھا ہو۔ ایسی حالت میں اگر کوئی شخص اس پر چلا جاوے تو وہ ایسی طرح شرمندہ ہو جاوے گا جیسے ایک بدکار اپنی بدکاری کو چھپاتا ہے۔ جیسے کہ اس قسم کے مومن کو کسی کے فاسق کہنے سے ایک لذت آتی ہے۔ اسی طرح پر دیانت دار کو کسی کے بددیانت کہنے سے جوش میں نہیں آنا چاہیے۔ ہاں ! انبیاء میں ایک قسم کا استثنیٰ ہوتا ہے کیونکہ اگر وہ اپنی عبادت اور افعال کو چھپائیں تو دنیا ہلاک ہو جاوے مثلاً اگر نبی نے نماز پڑھ لی ہو اور کوئی کہے کہ دیکھو اس نے نماز نہیں پڑھی تو اس کو چپ رہنا مناسب نہیں ہوتا اور اس کو بتلانا پڑتا ہے کہ تم غلط کہتے ہو۔ میں نے نماز پڑھ لی ہے۔ اس لئے کہ اگر وہ نہ کہے دوسرے لوگ دھوکہ میں پڑ کر ہلاک ہو سکتے ہیں ۔ پس نبیوں کو ضرور ہوتا ہے کہ وہ اپنی عبادات کا ایک حصہ ظاہر طور پر کرتے ہیں اور لوگوں کو دکھانا مقصود ہوتا ہے تا کہ ان کو سکھاویں۔ یہ ریا نہیں ہوتی ۔ اگر کوئی کہے کہ خضر نے ایسے کام کیوں کئے جن میں شریعت کی خلاف ورزی کا مظنہ تھا تو اس کا جواب یہ ہے کہ خضر صاحب شریعت نہ تھا ولی تھا۔ انبیاء علیہم السلام کے لئے دونو حصے الحکم جلد ۵ نمبر ۶ مورخه ۱۷ رفروری ۱۹۰۱ء صفحہ ۷، ۸ بروایت صاحبزادہ میاں محمود احمد صاحب در مجمع تشخیذ الاذہان ۔