ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 22 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 22

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۲ جلد دوم سے رنگین ہوتا جاتا ہے اسی قدر اصل سکھ اور آرام پاتا ہے۔ جس قدر قرب الہی ہو گا لا زمی طور پر اسی قدر خدا کی نعمتوں سے حصہ لے گا اور رفع کے معنے اسی پر دلالت کرتے ہیں۔ نجات کامل خدا ہی کی طرف مرفوع ہو کر ہوتی ہے اور جس کا رفع نہ ہو وہ أَخْلَدَ إِلَى الْأَرْضِ (الاعراف: ۱۷۷) ہو جاتا ہے۔ پس رفع مسیح سے مرادان کے نجات یافتہ ہونے کی طرف ایما ہے اور یہ روحانی مراتب ہیں جن کو ہر ایک آنکھ دیکھ نہیں سکتی کہ کیوں کر ایک انسان آسمان کی طرف اُٹھایا جاتا ہے۔ نزول سے مراد عزت و جلال کا اظہار ہوتا ہے۔ پس ہمارا نزول بھی یہی شان رکھتا ہے۔ پھر نزول سے پہلے منارہ کا وجود تو خود ہی ہو جائے ۷۔ نزول سے مراد گا۔ نزول سے مراد محض بعثت نہیں ہوتی ۔ - سورہ فاتحہ کی جامع تفسیر الحمد للہ سے قرآن شریف اس لیے شروع کیا گیا ہے تا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام کی طرف ایما ہو۔ اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيم سے پایا جاتا ہے کہ جب انسانی کوششیں تھک کر رہ جاتی ہیں تو آخر اللہ تعالیٰ ہی کی طرف رجوع کرنا پڑتا ہے۔ دعا کامل تب ہوتی ہے کہ ہر قسم کی خیر کی جامع ہوا اور ہر شر سے بچاوے۔ پس اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ میں ساری خیر جمع ہیں۔ اور غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ میں سب شروں حتی کہ دجالی فتنہ سے بچنے کی دعا ہے۔ مغضوب سے بالا تفاق یہودی اور الضَّالِّينَ سے نصاری مراد ہیں ۔ اب اگر اس میں کوئی رمز اور حقیقت نہ تھی تو اس دعا کی تعلیم سے کیا غرض تھی؟ اور پھر ایسی تاکید کہ اس دعا کے بدوں نماز ہی نہیں ہوتی اور ہر رکعت میں اُس کا پڑھا جانا ضروری قرار دیا۔ بھید اس میں یہی تھا کہ یہ ہمارے زمانہ کی طرف ایما ہے۔ اس وقت صراط مستقیم یہی ہے جو ہماری راہ ہے۔ کہتے ہیں کہ مسیح کی شبیہ کو سولی دی گئی ۔ مگر میں کہتا ہوں کہ اس و مسیح کی شبیہ کا افسانہ میں حصر عقلی یہی بتاتا ہے کہ وہ شخص جو مسیح کی شبیہ بنایا گیا یا دشمن ہو گا یا دوست ۔ اگر وہ دشمن تھا تو ضرور تھا کہ وہ شور مچاتا کہ میں مسیح نہیں ہوں اور میرے فلاں رشتہ دار