ملفوظات (جلد 2) — Page 276
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۷۶ جلد دوم کرتے۔ نماز کے ارکان بجائے خود دعا کے لئے محرک ہوتے ہیں۔ حرکت میں برکت ہے۔ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ بیٹھے بیٹھے کوئی مضمون نہیں سوجھتا جب ذرا اٹھ کر پھرنے لگے ہیں تو مضمون سوجھ گیا ہے اس طرح پر سب اعمال کا حال ہے اگر ان کی اصلیت کا لحاظ اور مغز کا خیال نہ ہو تو وہ ایک رسم اور عادت رہ جاتی ہے۔ اس طرح روزہ میں خدا کے واسطے نفس کو پاک رکھنا ضروری ہے لیکن اگر حقیقت نہ ہو تو پھر یہ رسم ہی رہ جاتی ہے۔ یقیناً یاد رکھو کہ جو خدا تعالیٰ کے خدا تعالیٰ کے فضلوں پر خوشی کا اظہار کرنا چاہیے فضل پرخوش نہیں ہوتا اور اس کا ل پر خوش عملی اظہار نہیں کرتاوہ مخلص نہیں ہے۔ میرے خیال میں اگر کوئی شخص خدا تعالیٰ کے فضل پر سال بھر تک گا تا ر ہے تو وہ سال بھر ماتم کرنے والے سے اچھا ہے۔ جو امور قال اللہ اور قال الرسول کے خلاف ہوں یا ان میں شرک یا ریا ہو اور ان میں اپنی شیخی دکھائی جاوے وہ امور اثم میں داخل ہیں اور منع ہیں ۔ دف کے ساتھ شادی کا اعلان کرنا بھی اس لیے ضروری ہے کہ آئندہ اگر جھگڑا ہو تو ایسا اعلان بطور گواہ ہو جاتا ہے ایسا ہی اگر کوئی شخص نسبت اور ناطہ پر شکر وغیرہ اس لیے تقسیم کرتا ہے کہ وہ ناطہ پکا ہو جاوے تو گناہ نہیں ہے لیکن اگر یہ خیال نہ ہو بلکہ اس سے مقصد صرف اپنی شہرت اور شیخی ہو تو پھر یہ جائز نہیں ہوتے ۔ اسی طرح میرے نزدیک باجے کی بھی حالت ہے ۔ اس میں کوئی امر خلاف شرع نہیں دیکھتے بشرطیکہ نیت میں خلل نہ ہو ۔ نکاحوں میں بعض وقت جھگڑے پیدا ہوتے ہیں اور وراثت کے مقدمات ہو جاتے ہیں جب اعلان ہو گیا ہوا ہوتا ہے تو ایسے مقدمات کا انفصال سہل اور آسان ہو جاتا ہے اگر نکاح گم صم ہو گیا اور کس کو خبربھی نہ ہوئی تو پھر وہ تعلقات بعض اوقات قانوناً نا جائز سمجھے جاکر اولا د محروم الارث قرار دے دی جاتی ہے ایسے امور صرف جائز ہی نہیں بلکہ واجب ہیں کیونکہ ان سے شرع کے قضا یا فیصل ہوتے ہیں ۔ یہ لڑ کے جو پیدا ہوتے رہتے ہیں بعض وقت ان کے عقیقہ پر ہم نے دو دو ہزار آدمی کو دعوت دی ہے اور اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ ہماری غرض اس سے یہی تھی کہ تا اس پیشگوئی کا جو ہر ایک کے پیدا ہونے سے پہلے کی گئی تھی بخوبی اعلان ہو جاوے۔ ۔