ملفوظات (جلد 2) — Page 277
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۷۷ جلد دوم بانی باطنی سے ربط اعمال ہو جاتا ہے تذکرۃ الاولیاء میں لکھا ہے کہ ایک شخص نے اللہ تعالیٰ بدن سے عہد کیا کہ میں اپنے آپ کو سب سے بدتر سمجھوں گا۔ ایک بار وہ دریا پر گیا تو اس نے دیکھا کہ ایک جوان عورت ہے اور ایک مرد بھی اس کے ساتھ ہے اور دونوں بڑی خوشی کے ساتھ بیٹھے ہوئے ہیں وہاں اس نے دعا کی کہ الہی ! میں اس شخص سے تو بہتر ہوں کیونکہ اس نے حیا چھوڑ دیا ہے اتنے میں کشتی آئی اور وہ اس میں سوار ہو گئے سات آدمی تھے وہ غرق ہو گئے وہ شخص جس کو اس نے شرابی سمجھا تھا دریا میں کود پڑا اور چھ کو بچالا یا اور ایک باقی رہا تو اس کو مخاطب کر کے کہا کہ تو نے ایسا گمان کیا تھا اب ایک باقی ہے اسے نکال لا اس وقت اس نے سمجھا کہ یہ تو مجھے ٹھوکر لگی۔ آخر اس سے اصل معاملہ پوچھا تو اس نے کہا کہ میں تیرے لئے خدا کا مامور ہوں یہ عورت میری والدہ ہے اور جس کو تو شراب کہتا ہے یہ اس دریا کا پانی ہے اور یہاں میں خدا تعالیٰ کے بٹھائے سے بیٹھا ہوں ۔ تو غرض حسن ظن بڑی عمدہ چیز ہے اس کو ہاتھ (سے) نہیں دینا چاہیے اور خدا تعالیٰ کے فضل اور انعام پر اس کا شکر کرنا کبھی نا جائز نہیں ہو سکتا جب تک کہ محض اس کی رضا ہی مطلوب ہو اور دنیا کی شیخی اور نمود غرض نہ ہو۔ ا ۳ ر ستمبر ۱۹۰۱ء ایک رویا فرمایا۔ آج ہم نے رویا میں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ کا دربار ہے اور ایک مجمع ہے اور اس میں تلواروں کا ذکر ہو رہا ہے تو میں نے اللہ تعالیٰ کو مخاطب کر کے کہا کہ سب سے بہتر اور تیز تر وہ تلوار ہے جو تیری تلوار میرے پاس ہے۔ اس کے بعد ہماری آنکھ کھل گئی اور پھر ہم نہیں سوئے۔ کیونکہ لکھا ہے کہ جب مبشر خواب دیکھو تو اس کے بعد جہاں تک ہو سکے نہیں سونا چاہیے اور تلوار سے مراد یہی حربہ ہے جو کہ ہم اس وقت اپنے مخالفوں پر چلا رہے ہیں۔ جو آسمانی حربہ ہے۔ الحکم جلدے نمبر ۱۴ مورخہ ۱۷ را پریل ۱۹۰۳ صفحه ۲،۱