ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 275 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 275

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۷۵ جلد دوم اعتراض کرنے کی جرات کرتا ہے اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے دوسرے افعال پر نظر نہیں کرتا۔ ایسے امور پیش آتے ہیں جو دوسرے علم نہ رکھنے کی وجہ سے ان پر اعتراض کر بیٹھتے ہیں ۔ اعتراض سے پہلے انسان کو چاہیے کہ حُسن ظن سے کام لے اور چند روز تک صبر سے دیکھے پھر خود بخود حقیقت کھل جاتی ہے۔ کچھ عرصہ کا ذکر ہے کہ ایک عورت مہمان آئی اور ان دنوں میں کچھ ایسا اتفاق ہوا کہ چند بیبیوں سے نماز ساقط ہو گئی تھی اس نے کہا کہ یہاں کیا آنا ہے کوئی نماز ہی نہیں پڑھتا حالانکہ وہ معذور تھیں اور عند اللہ ان پر کوئی مواخذہ نہ تھا مگر اس نے بغیر دریافت کئے اور سوچے ایسا لکھ دیا۔ حضرت اناں جان کا عظیم نمونہ تزکیہ دل میں ہوتا ہے۔ بغیراس کے چھ نہیں بنتا حالانکہ میں نے دیکھا ہے کہ ہمارے گھر میں اس قدر التزام نماز کا ہے کہ جب پہلا بشیر پیدا ہوا تھا۔ اس کی شکل مبارک سے بہت ملتی تھی ۔ وہ بیمار ہوا اور شدت سے اس کو بخار چڑھا ہوا تھا یہاں تک کہ اس کی حالت نازک ہو گئی ۔ اس وقت نماز کا وقت ہو گیا تو انہوں نے کہا کہ میں نماز پڑھ لوں ۔ ابھی نماز ہی پڑھتے تھے کہ وہ بچہ فوت ہو گیا ۔ نماز سے فارغ ہو کر مجھ سے پوچھا کہ کیا حال ہے؟ میں نے کہا کہ اس کا تو انتقال ہو گیا ۔ اس وقت میں نے دیکھا کہ انہوں نے بڑی شرح صدر کے ساتھ کہا إِنَّا لِلَّهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ (البقرۃ: ۱۵۷)۔ اسی وقت میرے دل میں ڈالا گیا کہ اللہ تعالیٰ ان کو نہیں اٹھائے گا جب تک اسی بچہ کا بدلہ نہ دے لے۔ چنانچہ اس کے فوت ہونے کے قریباً چالیس دن بعد محمود پیدا ہوا اور اس کے بعد اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہ بچے پیدا ہوئے۔ غرض ظنون فاسده والا انسان ناقص الخلقت ہوتا ہے چونکہ اس کے پاس نماز کا مغز دُعا ہے صرف رسمی امور ہوتے ہیں اس لیے نہ اس کا دین درست ہوتا ہے نہ دنیا۔ ایسے لوگ نمازیں پڑھتے ہیں مگر نماز کے مطالب سے نا آشنا ہوتے ہیں اور ہر گز نہیں سمجھتے کہ کیا کر رہے ہیں نماز میں تو میں تو ٹھو نگے مارتے ہیں لیکن نماز کے بعد دعا میں گھنٹہ گھنٹہ گزار دیتے ہیں۔ تعجب کی بات ہے کہ نماز جواصل دعا کے لیے ہے اور جس کا مغز ہی دعا ہے اس میں وہ کوئی دعا نہیں